تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 489
اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ تیسرا پیغام بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُ لَا وَنَصَلَى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيم۔مورخه ۲۱ مارچ ۱۹۵۵ء خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الن سامير احباب جماعت - السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کانتر آپ کو یہ اطلاع ہو چکی ہے کہ ڈاکٹروں نے مجھے علاج کے لئے یورپ جانے کا مشورہ دیا ہے میرے پہلے اعلان سے ایک غلط فہمی ہوئی ہے۔پہلے اعلان میں یہ لکھا گیا تھا کہ ڈاکٹروں نے مجھے اپنے خاندان سمیت جانے کا مشورہ دیا ہے۔اس پر ایک احمدی ڈاکٹر صاحب مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ مشورہ کے وقت میں موجود تھا۔انہوں نے خاندان کا لفظ نہیں بولا تھا صرف آپ کے لئے کہا تھا۔یہ بات ان کی ٹھیک تھی۔اصل بات یہ ہے کہ ان کا مشورہ یہ تھا کہ میں علاج کے لئے یورپ جاؤں اور ہر قسم کے تفکرات سے بچنے کی کوشش کروں۔میں اپنی طبیعت کی بناء پر جانتا تھا کہ اس حالت میں میں اگر باہر گیا تو میری بیویوں اور بچوں کے دل میں شدید اضطراب ہو گا کہ نہ معلوم اتنی دور کیا واقعہ گذر جائے اور اپنی طبیعت کے لحاظ سے میں یہ بھی جانتا تھا کہ بیوی بچوں کے ان تفکرات کو میں برداشت نہیں کر سکوں گا اس لئے مشورہ کے آخری حقیہ کی بنا پر میں یہی سمجھتا تھا کہ مجھے اپنی بیوی بچوں کو ساتھ لے جانا چاہیے تاکہ سفر میں مجھے ان کی تکلیف لاحق نہ ہو چنانچہ اس کے بعد مجھے ایک اور ڈاکٹر ملے وہ احمدی تو نہیں ہیں لیکن بہت ہی محبت رکھتے ہیں۔انہوں نے میری رائے سن کہ اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ آپ میرا نام لے کر بے شک ڈاکٹروں کو بتادیں کہ اگر آپ ان کے بغیر گئے تو آپ کے تفکرات بڑھ جائیں گے کم نہیں ہوں گے۔بہر حال میں کچھ انجمن اور تحریک کے عملہ کو ساتھ لے کر جو وہاں تعلیم کے لئے جا رہے ہیں یا مستلغ ہو کر جا رہے ہیں اور اپنی بیویوں اور بعض بچوں کو لے کر جا رہا ہوں۔میرے پہلے اعلان کے بعد مجھے پہلے در پے دل کی تکلیف کے حملے ہوئے جن میں بعض اتنے شدید تھے کہ بعض وقتوں میں مکیں سمجھتا تھا کہ میں ایک منٹ یا ڈیڑھ منٹ سے زیادہ کسی صورت میں زندہ نہیں رہ سکتا۔جب ڈاکٹروں کو بلا کے دکھایا گیا تو انہوں نے آئے لگا کر اور نبضیں دیکھ کر یہی رائے قائم کی کہ بیماری دل کی نہیں ہے بلکہ اعصاب اور معدہ کی ہے لیکن تکلیف اور احساس کے لحاظ سے دونوں