تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 472 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 472

رنگ میں کہتے کہ وہ خوبصورت نظر آتی مہاجروں کا ذکر آتا تو آپ فرماتے ہیں جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی خاطر اپنے وطن چھوڑ دیئے اپنے مال چھوڑ دیئے۔ان سے اچھا اور کون ہو سکتا ہے۔اور انصار سے گفتگو فرماتے تو آپ اس رنگ میں گفتگو فرماتے کہ جن لوگوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے محض خدا تعالیٰ کی خاطر اپنے مال پیش کر دیئے ان پر اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے ان سے اچھا اور کون ہو سکتا ہے۔اس طرح دونوں فریق خوش ہوتے اور اپنی اپنی جگہ قربانی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔پس مبلغین اور دوسرے علماء کا کام ہے کہ وہ اس قسم کا لٹریچر تیار کریں جس کی اس زمانہ میں ضرورت ہے وہ اس طرز پر تصنیف نہ کریں جس طرز پر پچھلے علماء تصنیف کرتے چلے آئے ہیں۔اگر تم نماز کی صرف رکعات اور سجدے بیان کرتے ہو تو یورپ دالوں کی سمجھ میں تمہاری بات نہیں آسکتی لیکن اگر تم اس طرز سے یہ بات پیش کرو کہ نماز سے تمہارے اخلاق احساسات اور جذبات پر یہ اثر پڑتا ہے تو یورپ والوں کی سمجھ میں یہ بات آجائے گی اور وہ تمہاری بات سننے کے لئے تیار ہو جائیں گے کیونکہ وہ علم النفس کو سمجھتے ہیں۔کوئی زمانہ تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے نماز پڑھو تو لوگ بات مان لیتے تھے لیکن اب اگر کہا جائے کہ خدا کہنا ہے نماز پڑھو تو لوگ کہیں گے خدا تعالے کو نماز کی کیا ضرورت ہے ہر اک زمانہ کی زبان الگ الگ ہوتی ہے اور اپنی بات سمجھانے کے لئے اس زبان میں بات کرنی پڑتی ہے جسے لوگ سمجھتے ہوں۔ایک بزرگ نے اپنے پاس بیٹھنے والوں سے دریافت کیا کہ جنت کیوں اچھی ہے تو کسی نے کہا اس میں بڑی بڑی نعماء ملیں گی اس لئے وہ اچھی ہے۔کسی نے کہا جنت میں مومن کو دائمی زندگی ملے گی اس لئے وہ اچھی ہے۔مغرض ہر ایک نے کوئی نہ کوئی وجہ بیان کر دی ہے اس بزرگ نے کہا کہ میرے لئے دوزخ اور جنت دونوں برابر ہیں۔اگر خدا تعالیٰ مجھے دوزخ میں ڈالتا ہے تو میرے نزدیک دوزخ اچھی ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ مجھے جنت میں ڈالتا ہے تو میرے نزدیک جنت اچھی ہے یہ ایک عشقیہ رنگ تھا جو آج کل نہیں چلتا اب اگر کہیں کہ مومن کو جنت ملے گی تو لوگ کہتے ہیں جنت کہاں ہے کسی جگہ ہے۔خدا تعالیٰ نے جنت کیوں بنائی ہے غرض اس زمانہ میں پرانے جوابات سے لوگ مطمئن نہیں ہوتے صرف یہ کہہ دینا کہ خدا تعالے خوش ہو گا لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے کافی نہیں۔تصوف آئے گا تو یہ باتیں لوگ مان لیں گے اس سے پہلے نہیں۔کسی زمانہ میں اگر یہ کہا جاتا تھا کہ خدا تعالے ہمیں دوزخ