تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 473
۴۵۳ میں بھی ڈال دے تو ہم اس پر راضی ہیں تو جسم پر جذبہ ایمان سے کپکپی آجاتی تھی لیکن اب یوروپ والے اس بات پر نہیں پڑتے ہیں ہاں وہ مادی زبان اور علم النفس کی بات کو فورا مان جاتے ہیں۔باقی باتوں کے ماننے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتے اس لئے قرآن کریم نے دونوں قسم کی باتوں کو لیا ہے۔اس نے عشقیہ رنگ کو بھی لیا ہے۔جیسے فرمایا اے رسولی جس نے تیرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اس نے گویا میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور علم النفس کو بھی لیا ہے کہ فرمایا ہم جو حکم دیتے ہیں وہ تمہارے فائدے کے لئے دیتے ہیں ہمیں اپنا کوئی فائدہ مد نظر نہیں ہوتا۔اسی طرح بعض جگہوں پر آمرانہ طرز عمل بھی اختیار کیا گیا ہے پس ہر زمانہ میں الگ الگ زبان ہوتی ہے آمریت اور جمہوریت دونوں باتیں قرآن کریم میں موجود ہیں لیکن ایک وقت میں اور ایک قوم کے سامنے ایک ہی بات پر زور دیا جا سکتا ہے دونوں پر نہیں۔پس تم اس رنگ میں لڑیچر تیار کرو پھر جب لڑیچر تیار ہو جائے تو جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس لٹریچر کو پھیلائے یہ سله۔له۔روزنامه "الفضل " ربوه ۱۷ فروری ۱۹۵۵ و ا تبلیغ ۱۳۳۳ میش ۲۰-۵