تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 435
کی پیشانی اور بڑے دروازہ پر مختلف رنگوں کے بلب لگائے گئے تھے اور شارخ صدر پر کھمبوں کے ساتھ ٹیو ہیں نصب تھیں۔جو نہی بجلی کی رو آئی۔مسجد مبارک اور شارع صدر جگمگا اُٹھے اور ربوہ بقعہ نور بن گیا۔اس موقع پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے کثیر احباب سمیت دعا فرمائی ہے ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد کوہ ہمالیہ کی دوسری ایک احمدی کوہ پیما کی کامیابی بلندتری اور انتہائی دشوار گدار و یا این کاروانی چوٹی گاڑوں آسٹن MOUNT GOD WIN AUSTIN (K۔2) ہے۔اس چوٹی کو سہ سے کمر کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں جو اس سال بار آور ہوئیں اور اس جولائی کو اسے ترکہ لیا گیا ہے اس کامیاب نہم کا سہرا جس اطالوی ٹیم کے سر رہا اس کے ایک اہم ممبر پاکستانی کوہ پیما اور مخلص احمدی جوان کرنل محمد عطاء اللہ صاحب بھی تھے نه روزنامه الفضل " لاہور ۱۳ ۱۷ جون ۲۰۱۵۔سے " مغربی پاکستان " لاہور ۵ ر ا گست ۱۹۵۳ مل۔ے۔کرنل محمد عطاء اللہ صاحب 192 ء میں پیدا ہوئے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے پنجاب میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم لاہور میں حاصل کی 1917ء میں ایم بی بی ایس کا امتحان میڈیکل کالج لاہور سے امتیاز کے ساتھ پاس کیا اور مزید تعلیم انگلینڈ میں حاصل کی جہاں سے دیگر اعلیٰ ڈگریوں کے علاوہ آنکھ کے ماہر بن کر لاہور تشریف لائے برا ۱۹۳ ء میں آپ کو نوچ میں کمیشن ملا۔آپ میڈیکل کور کے افسر ہونے کے علاوہ ڈیرہ اسمعیل خان سہری پور اور پشاور میں سپرنٹنڈنٹ جیل بھی رہ چکے تھے۔دوسری جنگ عظیم میں سینکڑوں افسروں میں سے منتخب کرنے کے بعد آپ کو اپنی قابلیت اور حسین انتظام کی وجہ سے ہمیں فیلڈ ہسپتال کا کمانڈنگ افسر بنا کر ایران کے محاذ پر بھیجا گیا۔اس محاذ کے اعلیٰ حکام آپ کی غیر معمولی قابلیت اور حسن انتظام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ہر مشکل کام میں آپ کی خدمات جلیلہ سے فائدہ اٹھایا گیا چنا نچو مصیبت زدگان کے انخلاء کا کام آپ کے سپرد کیا گیا جسے آپ نے بطریق احسن انجام دیا۔زاں بعد جب ایران میں خوراک کے مسئلہ نے نازک صورت اختیار کی تو آپ کو ایرانی محکمہ خوراک کا انچارج بطور