تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 436
مالم کئی سال سے یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ جامعتہ المبشرین کی پختہ عمارت کی نباید در نی ریزی درسی و کارت مرکز میں جامعہ دوسری گاہوں کی المبشرین جیسی اہم درس گاہ کی پختہ عمارت بھی تعمیر ہے۔اس سال اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب مہیا فرما دیئے۔مکرم مولوی ابو العطاء صاحب پرنسپل جامعة المبشرین اور دیگر اساتذہ جامعہ کی تحریک پر جماعت کے کئی مخیر دوستوں نے اس کے لئے چندہ دیا اور تحریک جدید کی نگرانی میں تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے مغربی جانب بنیادوں کی کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا۔سید نا حضرت مصلح موعودؓ نے سفر کراچی دسندھ پر جانے سے ایک روز قبل در احسان سرحون کو تین بنیادی اینٹوں پر دعا فرما دی اور ۲۵ ظہور / اگست ان کو حضرت مولوی غلام رسول ۶۱۹۵۴ صاحب نے یہ تینوں مبارک اینٹیں بطور نمیاد رکھیں۔پھر ایک ایک اینٹ مندرجہ ذیل بزرگوں کے ہاتھوں رکھی گئی :- حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظرا علی۔حضرت مولوی محمد دین صاحب ناظر تعلیم و تربیت بقیه حاشیه : حکومت کے مشیر اور وزیر کے مقرر کیا گیا ہے۔آپ نے اپنے محسن انتظام سے ملک کو قحط کے خطرہ سے بچا لیا۔ان خدمات کے صلہ میں حکومت نے آپ کو اور بی۔اسی E۔0۔8 ) کا خطاب دیا تقسیم ہند کے بعد کشمیر کے محاذ پر آپ کو ڈائرکٹر آف میڈیکل سروستر مقرر کیا گیا۔سواء میں ہمالیہ کی دوسرے نمبر کی اونچی چوٹی پر چڑھائی کے لئے جو امریکی فہم گئی تھی۔آپ اس کے ساتھ بھی تھے۔مگر یہ فہم ناکام واپس آئی۔1920ء میں آپ اطالوی مہم میں شریک ہوئے اور بفضلہ تعالیٰ کامیاب و بامراد واپس آئے۔نئی دہلی کے مشہور اخبار سٹیٹمن کے ساتھی ایڈیٹر مسٹر آئین سٹیفنز نے اپنی کتاب O۔B۔HORNED MOON میں موصوف کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ :۔آپ ذرا اندازہ کیجئے۔ایک چھوٹے قد گٹھے ہوئے جسم کے چاق و چوبند انسان کا جس کے سر سے بال قدرے غائب عمدہ گیند نما پیشانی۔دونوں آنکھوں کے درمیان کافی فاصلہ مناسب خد و خال - حاضر الخیالی کا مجسمہ ٹھوڑی پر خشخشی داڑھی۔یہ لینن کی شکل ہے جیسا کہ اس کی تصاویر سے ظاہر ہے۔یہی تفصیل کرنل عطاء اللہ پی۔اے ایم سی کی ہے جن کے ساتھ میں نے آزاد کشمیر کا !