تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 425 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 425

۰۷م۔۔۔۔۔امیرو میں صرف وہی احمدیت کا روشن ستارہ تھا جو قریباً نوے سال کی عمر میں آسمان احمدیت پر چوالیس سال چمک کر مدہم پڑ گیا۔اللهم اغفره وارحمه وادخله في الجنة۔آمين ۳- منشی محمد خالد صاحب صد جماعت احمدیہ جھانسی یوپی بھارت رونات ستمبر۔جناب گیانی عباد اللہ صاحب آپ کی قابل رشک مومنانہ زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :- مرحوم نہایت مخلص احمدی تھے سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود ایدہ اللہ سے انہیں والہانہ عقیدت تھی۔خاکسار کو ان سے غالباً سن ۱۹ ء میں تعارف حاصل ہوا تھا۔آپ جی۔آئی پی نہیں ڈرافٹسمین تھے۔پاکستان بننے سے قبل نظارت دعوت و تبلیغ نے یوپی اور سی پی وغیرہ علاقوں میں تبلیغ اسلام کی غرض سے ایک وفد بھجوایا تھا۔یہ وفد کئی سال تک اِن علاقوں میں تبلیغ اسلام کا فریضہ حسب توفیق ادا کرتا رہا۔خاکسار بھی ایک ضمیر تھا۔جب ہم دورہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ جھانسی گئے تو اتفاقی سے ان دنوں محمد خالد صاحب مکرم کسی خاص کام کی وجہ سے بمبئی تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ہم جتنے دن مجھانسی میں ٹھہرے مخلص باپ کے مخلص بچوں نے ہمارا ہر طرح خیال رکھا اور کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہونے دی ابن کا ایک لڑکا تو اپنا تمام کام چھوڑ کر ہمارے ساتھ رہا۔ہمیں وہاں ہی معلوم ہوا کہ منشی محمد خالد صاحب مکرم نے سو سال سے بیعت کی ہوتی ہے۔لیکن بعض وجوہات کی بنا پہ وہ قادیان کی ایک مرتبہ بھی زیارت نہ کر سکے ہم ان کی بغیر حاضری میں تین چار دن جھانسی ٹھہرے اور صداقت اسلام وغیرہ مسائل پر تقریریں کر کے اپنے پروگرام کے مطابق بھوپال چلے گئے جاتے ہوئے ہم ایک مختصر سا رفعہ لکہ کہ ان کے لئے رکھے گئے اس میں صرف اتنا ہی مرقوم تھا :- به ہم جھانسی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے مگر آپ سے ملاقات نہ ہوسکی۔اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری آپ سے پہلی ملاقات قادیان میں جلسہ سالانہ پر ہو۔یہ ہماری طرف سے انہیں اصل میں جلسہ سالانہ پر قادیان آنے کی ایک دعوت تھی جسے انہوں له روزنامه " الفضل " ريوه بكم اكتوبر سواء من - ه - "بدر" قادیان ۴ ستمبر ا مت کا لم۔