تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 401
حاصل کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا۔جہاں اس کا باپ تعلیم حاصل کرتا ہے اپنے مرزا محمد احسن بیگ صاحب را جستهان د ولادت قریبا شهداء - سبعیت ۲۰ اگست ۱ اندازه ای وفات ۲۵ مارچ ۱۹۵۳ ) مرزا محمد احسن بیگ صاحب مرزا اعظم بیگ صاحب کے پوتے تھے جن کے والد ماجد مرزا محمد بیگ صاب کو حضرت مسیح موعود کی بڑی بہن حضرت مراد بیگم صاحبہ کے ساتھ شادی کی سعادت حاصل ہوئی۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ لکھا :- مرحوم صحابی تھے۔حضرت تائی صاحبہ کی چھوٹی ہمشیرہ کے صاحبزادہ تھے حضر مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو بہت عزیز تھے۔بعض سفروں میں حضور اُن کو اپنے ہمراہ رتھ میں بٹھلاتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ حضور بٹالہ سے واپس تشریف لا رہے تھے تو بٹالہ قادیان سڑک پر موضع او ان بالمقابل والہ گرسنتھیاں کے قریب حضور کو پیشاب کی حاجت ہوئی اور میں نے پانی کا لوٹا بھر کہ پیش کردیا اور دوسری طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا۔حضور ابھی تاریخ نہیں ہوئے تھے کہ ایک ادارہ سانڈھ حضور پر حملہ آور ہونے کے لئے لپکا۔میرے پاس لا کھٹی تھی جو نہیں نے اس پینہ بڑا تڑ لگائیں اور وہ بھاگ گیا۔اس سفر میں بھی مرحوم حضور کے ہمراہ رکھے میں سوار تھے اور کوئی دو سال کی بات ہے کہ انہوں نے ایک خط میں اس واقعہ کی طرف اشارہ بھی کیا تھا۔حضور نے مرحوم کے پاس خاطر مجھے اُن کے پاس کا مٹہ بھیج دیا تھا جب بھی یکیں واپسی کا ارادہ کرتا مرحوم حضور کی خدمت میں لکھ دیتے اور حضور کا ارشاد مجھے آتا میاں عبدالرحمن ہماری خوشی چاہتے ہو تو مرزا احسن بیگ کے پاس رہو۔اس پر میں ٹھہر جاتا۔کم و بیش چار سال تک ان کے پاس مرا قیام رہا۔گو درمیان میں تھوڑے تھوڑے عرصہ کے لئے قادیان آنے کا موقعہ بھی ملتا رہا۔۴ دسمبر عشاء کو ایک چیتے نے مجھے زخمی کر دیا اور اس وجہ سے ه تاریخ احمدیت لاہور من ۲-۲۰۵ راز مولانا شیخ عبد القادر صاحب) - ۰۳ الحکم ۲۳ اگست سنشاه - کے محترمہ حرمت بی بی صاحبہ اہلیہ مرزا غلام قادر صاحب مرحوم ( برادر اکبر حضرت مسیح موعود) حضرت مسیح موعود کوتاء میں الہام ہوا۔" "تائی آئی یہ الہام اس طور پر پورا ہوا کہ آپ 1914ء میں حضرت علیہ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئیں۔