تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 400
۳۸۲ کی ضرورت نہیں۔جب حضور علیہ السّلام نے مسیحیت کا دعوی کیا تو میرے دادا صاحب نے کچھ عرصہ بعد حضور علیہ السّلام کی بیعت کرلی اور سارے خاندان کو کہا کہ میں ان کا اس زمانہ سے واقف ہوں جب کہ حضور علیہ کی یہاں ملازم تھے۔اس لئے آپ لوگ میرے سامنے بیعت کر لیں۔یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔چنانچہ 19ء میں ہمارے سارے خاندان نے بیعت کرلی۔سب سے پہلے ہمارے چچا میاں میران بخش صاحب نے ہم تمام کی طرف سے بیعت کا خط لکھا۔پھر ہم سارے قادیان گئے اور جا کر بیعت کی شہداء کے جلسہ سالانہ میں جلسہ مسجد اقصی میں ہوا تھا سیالکوٹ کی جماعت کو رہائش کے لئے مسجد مبارک میں جگہ ملی تھی کھانے کی ایک ہی دیگ تمام لوگوں کے لئے تیار کی گئی تھی۔میٹھا پلاؤ پکا یا گیا تھا۔جس وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے مجھے، میاں فیروز الدین صاحب، میاں میران بخش صاب حاجی فضل الدین صاحب اور میاں عبد العزیز صاحب کو مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر چڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ آب میں سمجھتا ہوں کہ سارا سیالکوٹ احمدی ہو گیا ہے جب کہ میاں نظام الدین کے خاندان کے افراد یہاں آگئے ہیں۔ہے کہ آپ کے خلف الرشید حضرت بابو فضل الدین صاحب ریٹائرڈ سپر نٹنڈنٹ لا ہور کی روایت میرے والد محترم میاں فیروز الدین صاحب رضی اللہ عنہ مدفون بہشتی مقبرہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم جب پہلی مرتبہ شہر آیت میں قادیان گئے تو حضور کی دستی بیعت سے بھی مشرف ہوئے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی چونکہ والدمحترم کے ہموطن تھے اس لئے اُن کے ساتھ بے تکلفی تھی۔فرمایا کرتے تھے کہ ہم حضرت مولوی صاحب موصوف کے ساتھ مسجد مبارک کے ساتھ ملحقہ کو ٹھری میں میٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد کا وہاں سے گزر ہوا۔ہم نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ صاحبزادہ کہاں تعلیم به روایات صحابہ جلدت ما ر غیر مطبوعه - سه ولادت ۱۲ فروری شعراء وفات ۱۲ ر ستمبر رس تاریخ احمدیت لاہور ص ۲۰۲ ریکارڈ بہشتی مقیرہ کے یہ واقعہ شہداء کا ہے۔(ناقل )۔