تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 402
۶۵ لم ۳۸ نہیں وہاں سے واپس آگیا۔مرحوم کی عمر پینسٹھ برس کی ہوگی مرحوم کے شاندار کے سوا اس مقام پر کوئی احمدی نہیں ہے ؟ آپ کو حضرت مصلح موعود کی ذات مقدس کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات کا شرف حاصل تھا۔حضور نے ایک بار رویا میں دیکھا کہ آپ آئے ہیں۔یہ خواب غیر معمولی رنگ میں کسی طرح بہت جلد پوری ہو گئی ؟ اس کا ذکر حضور ہی کے الفاظ میں پڑھتے۔حضور نے ہم اپریل ۱۹۲۲ء کو مجلس عرفان کے دوران فرمایا :- بعض دفعہ اللہ تعالے ایمان کی مضبوطی کے سامان بہت جلد پیدا کر دیتا ہے۔گذشتہ دو دن چونکہ بارش ہوتی رہی ہے۔اس لئے میں بیٹھے نہ سکا۔ہفتہ کے دن مغرب کی نماز کے بعد ہم یہاں بیٹھے اور میں نے دوستوں کو ایک رویا سنایا تھا۔میں نے کہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ مرزا احسن بیگ صاحب آئے ہیں اسی طرح پیر احسن الدین صاحب ڈپٹی کمشنر کے متعلق دیکھا کہ انہوں نے مجھے بلا بھیجا ہے۔میں نے اس کی تعبیر یہ کی تھی کہ کوئی احسن بات ظاہر ہونے والی ہے اگر خواب میں جب کسی شخص کے متعلق دیکھا جائے کہ وہ آیا ہے تو اس سے مراد بعض دفعہ اس سے تعلق رکھنے والا کوئی واقعہ بھی ہوتا ہے۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے پچھلے بیس سال میں ایک دفعہ بھی مرزا احسن بیگ کو خواب میں دیکھا ہو لگے ادھر میں نے یہ رویا دیکھا اور ادھر دوسری صبح یہ اطلاع آئی کہ مرزا احسن بیگ صاحب کی بیٹی قادیان آتی ہوئی گاڑی میں گم ہوگئی ہیں۔مرزا افضل بیگ صاحب اپنے لڑکے کے رخصتانہ کے لئے وہاں گئے تھے۔اور وہ اُن کی لڑکی کو رخصت کرا کے لا رہے تھے کہ راستہ میں گاڑی کا وہ حصہ جس میں مستورات سوار تھیں ریلوے دالوں نے وہ گاڑی سے کاٹ کر کسی اور گاڑی کے ساتھ لگا دیا اور وہ گاڑی دوسری طرف چلی گئی۔پس مرزا احسن بیگ صاحب کا رویا میں آنا در حقیقت ہی تعبیر رکھتا تھا۔پھر اُدھر یہ واقعہ ہوا اور ادھر آج رات ہی مجھے رڈیا میں یہ تمام نظارہ دیکھا گیا۔اب تو مرزا افضل بیگ صاحب آپکے ہیں۔مگر مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ آ رہے ہیں اور مجھے یہ معلوم تھا کہ کہاں یہ واقعہ ہوا۔مگر آج رات جب کہ میں نے ان کے لئے دعا کی تو مجھے دکھا گیا کہ اصل واقعہ یہ ہوا ہے کہ ایک اسٹیشن پر ان کی گاڑی کٹ کر کسی اور طرف لگ گئی لے ہفت روزہ " بدر" قادیان 2 اپریل ۱۹۵۴ء جنگ کالم ۲ -