تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 374
۳۵۶ میں شرکت کے لئے چلا گیا۔واپس آیا تو بچی کی بیماری میں کافی افاقہ تھا۔اور یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور اس پر تو حمل کرنے کا نتیجہ تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا اس قسم کے تجربات سے میری زندگی کا کوئی لمحہ خالی نہیں انسان نیک نیت ہو کہ اپنی زندگی کے چند لمحے قربان کرتا ہے تو اگر چہ یہ قربانی خدائے تعالیٰ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی مگر وہ اسے خوب نوازتا ہے اور اپنے بندہ کی ڈھارس بندھاتا ہے۔ہم نے پچھلے سال بھی اس کا تجربہ کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنا چہرہ دکھایا اور اپنی قدرت سے ہماری جانوں اور مالوں کو محفوظ رکھا۔اس کے بعد بھی اگر کوئی کہے کہ خدا تعالے زندہ موجود نہیں ہے تو اسے پاگل نہیں تو اور کیا کہا جا سکتا ہے۔اگر خدا تعالے واقعی زندہ موجود نہیں ہے تو مذہب محض خشک فلسفہ ہے۔تو روح کو ہرگز تسکین نہیں دے سکتا موجودہ حالات میں ہم نے اس ہتھیار کو لے کر دنیا پر حملہ کرنا ہے کہ خدا تعالیٰ زندہ موجود ہے۔باقی مسائل فروعی حیثیت کے ہیں۔اور یہ محاذ ایسا ہے کہ اس میں ہمیں جلد اور نمایاں فتح حاصل ہو سکتی ہے۔لیکن ابھی تک ہم اس سے بے توجہی برت رہے ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے قائدین کرام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جو کام بھی کریں۔خلوص سے کریں۔اور جس چیز کو وہ سنجیدہ گی سے بہتر سمجھیں اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔اگر کسی خادم کو سزا بھی دیتے ہیں تو اس میں بھی خلوص نیت کو پیش نظر رکھیں۔اس کا نتیجہ بہت اچھا نکلتا ہے۔اس سے نہ صرف نظام کا وقار قائم رہتا ہے بلکہ سزا لینے والا جب اس سہ سنجیدگی سے غور کرتا ہے تو وہ اپنی اصلاح کر لیتا ہے۔دین کے بارہ میں لحاظ بے معنی ہے۔اس لئے خدام کی اصلاح کرتے ہوئے تم کسی کا لحاظ نہ کرو۔ہاں خلوص نیت اور ارادہ نیک رکھو۔میرا اپنا تجربہ ہے کہ جن لوگوں کو میں نے مزار میں دیں ان میں سے اسی فیصدی سے زیادہ میرے دوست بن گئے۔اور وہ آپ بھی اپنے کاموں میں مجھے سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔اس تقریر کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف نے دعا فرمائی۔اور قائدین اور مجلس عاملہ مقامی کے ارکان کو شرف مصافی بخشا اور اس طرح یہ تقریب ختم ہوئی ہے اس اولین تقریب کے چند ہفتوں بعد مجلس مرکزیہ نے اپنے دفتر کے وسیع احاطہ میں عصرانہ کا ه اخبار الفضل " ۱۲ نومبر ۱۹۵۳ ۶ رجوت ۱۳۳۳ پیش ص۲