تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 375 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 375

۳۵۷ انتظام کیا جس میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے بھی شمولیت فرمائی۔تلاوت قرآن کریم کے بعد مولوی محمدصدیق صاحب معتمد خدام الاحمدیہ نے ایڈریس پڑھا جس میں آپ کے عہد صدارت کے زریں کارناموں کا تذکرہ تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایڈریس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے وہ دراصل اللہ تعالے کی خاص تائید اور نصرت کے سبب سے ہی رونما ہوتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے وعده يَنْصُرُكَ رِجَالُ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ کا مشاہدہ میں نے بارہا کیا ہے۔ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ ایسے افراد بہم پہنچاتا رہا ہے جو عواقب سے بے پروا ہو کر اور اپنے آپ کو جان جوکھوں میں ڈال کر مفوضہ فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالے خود ہی ہمارے کام کر رہا ہے ہمیں صرف ہمت اور ارادہ کی ضرورت ہے آخر میں آپ نے اُن جذبات محبت کا جن کا ایڈریس میں ذکر کیا گیا تھا شکریہ ادا کیا ہے اس کے بعد سید تا حضرت مصلح موعودہ نے خطاب فرمایا اور خدام کو بعض اہم ہدایات سے نوازا جن کو حضور ہی کے الفاظ مبارک میں درج ذیل کیا جاتا ہے :۔خدام الاحمدیہ کا قیام ہی اس مقصد کے ماتحت کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں اسلام کی روح کو زندہ رکھا جائے اور انہیں گرنے سے بچایا جائے ، باغوں میں پھل لگتے ہیں تو اس میں انسانوں کا اختیار نہیں ہوتا اور بے تحاشا لگتے ہیں۔مگر خدا لگاتا ہے۔انسانوں کا اختیار اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ ان پھلوں کو گرنے سے بچاتا ہے یا اس امر کی نگہداشت کرتا ہے کہ اسے جانور نہ کھا جائیں یا بچے نہ توڑ لیں یا کیڑے اس باغ کو خراب نہ کر دیں اور یہ حفاظت اور نگہداشت اس کی خوبی ہوتی ہے۔جہاں تک پھلوں کا سوال ہے اس کا لگا نا خدا کے اختیار میں ہے۔لیکن جہاں تک پھلوں کی حفاظت کا سوال ہے وہ انسان کے اختیار میں ہے۔لیکن بے وقوف اور نادان باغبان پھلوں کی حفاظت نہیں کرتا۔اور وہ ضائع ہو جاتے ہیں۔یہاں پاکستان میں ہمیں بھی لائل پور میں ایک بالغ الاٹ ہوا ہے۔لاہور کے ایک تاجر نے اس کا ٹھیکہ لیا تھا وہ مجھے ملے تو کہنے لگے کہ بے شک ہم نے بھی نفع اٹھایا ہے لیکن آپ دیکھیں کہ اس باغ میں آپ کہیں بھی کوئی طوطا نظر نہیں آتا۔پہلے اس باغ میں ہزارہا طوطے ہوا کرتے تھے مگر اب ایک طوطا بھی نظر نہیں آتا۔انچار ج خلافت لائبریری ربوه - سے (ترجمہ) تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف نے الہام کریں گے۔کے۔اخبار الفضل " ۵ار فتح ۱۳۳۳ پیش ۱۵ دسمبر ۱۹۵۸ در کالم را