تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 373
۳۵۵ خدام الاحمدیہ کی قیادت سونپی تھی جب کہ یہ مجلس چند گنتی کے احمدی نوجوانوں تک محدود تھی اور قادیان میں اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہی تھی ، آپ نے مجلس کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے میں اپنی جوانی کا قیمتی حصہ صرف کر دیا۔اس میں خدمت دین اور خدمت خلق کے لئے کام کرنے کی امنگ، جوش اور ولولہ پیدا کیا اور پندرہ سال کی انتھک اور اس کوشیا بہ روز کوشش اور دعاؤں سے ایک مثالی قابل رشک اور بلند معیار تک پہنچا دیا۔ان عظیم الشان خدمات کی بناء پر خدام میں آپ کے لئے جذبات تشکر و امتنان کا خود بخود اُبھر آنا ایک قدرتی امر تھا یہی وجہ ہے کہ عشاء کے بعد کمیٹی روم دفاتر تحریک جدید میں ایک الوداعی پارٹی دی گئی جس میں نئے سال کے نائب صدر اول و دوم اور نائب صدر صوبہ سرحد کے علاوہ بیش کے قریب قائدین مجالس نے شرکت کی۔قائد مجلس مقامی صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاب نے سپاسنامہ پیش کیا اور آپ کی سنہری خدمات کو خراج تحسین ادا کیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے سپاس نامہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جب کوئی شخص خلوص نیت سے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حقیر سی قربانی بھی پیش کرتا ہے تو وہ اسے خوب نوازتا ہے۔آپ نے بھی زندگی میں اس بات کا کئی دفعہ تجربہ کیا ہو گا۔مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے تھوڑی سی خدمت کا موقعہ دیا ہے۔اور اس دوران میں نے اس بات کا خوب تجربہ کیا۔اور خدا تعالیٰ کے سلوک کا لطف اٹھایا ہے۔آپ نے بلیلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا۔اکتو بر اساء میں غالبا محلہ دار البرکات قادیان میں خدام کا ایک جلسہ تھا جس میں میں نے شریک ہونا تھا۔میری بڑی بھی جس کی عمر اس وقت چند ماہ کی تھی بہت بیمار تھی۔اور ہم شہر سے باہر قیام پذیر تھے۔بچی کی والدہ سخت پریشان اور گھبرائی ہوئی تھی۔اس نے مجھے یا ہر جانے سے روکا۔لیکن میں نے اس بات کو پسند نہ کیا کہ میں جلسہ میں شرکت سے محروم رہوں۔چنانچہ میں نے اپنی سمجھ کے مطابق ، جو میو پیتھک کی ایک دوا بچی کو دی اور خدا تعالے پر تو کل کرتے ہوئے جلسہ ئے۔صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ (ولادت ۲۶ اپریل ۱۹۴۰ ۶ ملاحظہ ہو روزنامہ الفضل ۲۸ اپریل ۱۹۴۶ ص۲)