تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 369
۳۵۱ میرے نزدیک آئندہ کے لئے ابھی سے لاہور کے بھٹہ والوں سے مل کر انہیں اس بات پر تیار کیا جائے کہ اگر ملک کو آئندہ ایسا حادثہ پیش آیا تو وہ اینٹ کم قیمت پر دیں گے۔اور دوسرے گاہکوں پر امدادی کاموں کو ترجیح دیں گے۔بے شک اس میں وقت پیش آئے گی اور پہلے ایک آدمی بھی مشکل سے مانے گا۔لیکن آہستہ آہستہ کئی لوگ مان لیں گے۔اور پھر جو لوگ آپ کی بات مان لیں ان کے نام محفوظ رکھ لئے جائیں۔اس طرح اس کام کو منظم کر لیا جائے کہ لے دام الاحمدیہ عالمگیر کیطرف سے الوداعی ایڈریس ، حضرت علی موجود کے اس اختصاصی خطاب اور دعا کے بعد خدام کا ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں خدام الاحمدیہ عالمگیر کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی خدمت میں حسب ذیل الوداعی ایڈریس پیش کیا گیا :- بسم الله الرحمن الرحيم مکرم و محترم نائب صدر صاحب اول - زاد كم الله شرفاً وعزاً السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حساء کا سن وہ مبارک سال ہے جب حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزيزيني مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام فرمایا۔احمدیت کی تاریخ شاہد ہے کہ اس تحریک کے ذریعہ احمدی نوجوانوں نے تنظیم اور ملی خدمت کی تربیت حاصل کی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مبارک تحریک کا قیام حضرت فضل عمر ایدہ اللہ تعالی کے مبارک ہاتھوں سے ہوا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس تحریک کو پروان چڑھانے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی۔این سعادت بزور بازو نیست تا نه ببخشد خدائے بخشنده ۱۹۳۹ء سے لیکر ۱۹۴۹ء تک آپ کے ہاتھوں میں اس تحریک کی زمام قیادت رہی۔اور پھر وہ مبارک دن بھی جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ اعلان فرمایا ه - اخبار الفضل " ۹ر فروری ۱۹۵۵ و ۱۹ تبلیغ ۱۳۳۳ پیش من