تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 348
٣٣١ فرمائی کہ وہ ضرورت وقت کو سمجھیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو وقف کریں اور اتنی کثرت سے کریں کہ اگر دس نوجوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سونو جوان پیشش کرے۔حضور نے اپنے دراخاء (اکتوبر) کے خطبہ جمعہ میں خاص طور پر اس حقیقت پر زور دیا کہ دین کی خدمت کا ثواب دائمی ہے اور دنیوی مال ایک عارضی اور فانی چیز ہے نیز فرمایا :- پاکستان یا ہندوستان جس میں پاکستان اور بھارت شامل تھے وہ ملک ہے جسے خدا تعالیٰ نے چن لیا ہے اگر خدا تعالیٰ کسی اور ملک کو زیادہ قابل سمجھتا تو وہ اپنا مسیح اس ملک میں مبعوث کرنا۔لیکن اس نے اپنے مسیح کی بعثت کے لئے ہمارے ملک کو چین کہ ایک تو ہم پر احسان کیا اور دوسرے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا جس کا بدلہ دینا ہم پر فرض ہے۔حضرت ابن عباس سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ کسی شخص کے لئے اس قسم کی دعا بھی کرتے ہیں۔جس قسم کی دُعا آپ اپنی ذات کے لئے کرتے ہیں۔آپ نے کہا ہاں میں اُس شخص کے لئے اس قسم کی دعا کرتا ہوں جو مجھے آکر یہ کہتا ہے کہ مجھے آپ کے سوا اور کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آتا ایسے شخص کے لئے میں اس قسم کی دعا کرتا ہوں جس قسم کی دعا میں اپنی ذات کے لئے کرتا ہوں۔اس لئے کہ اس نے مجھ پر اعتماد کیا ہے اور چونکہ اُس نے مجھے پر اعتماد کیا ہے اس لئے آب میرا فرض ہے کہ اس کے اعتماد کے مطابق اس سے سلوک کیوں۔اگر حضرت ابن عباس زید بکر کے لئے اپنی جان لڑا دیتے تھے کہ اس نے آپ پر اعتماد کا اظہار کیا تو پھر یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ خدا تعالٰی نے ہمیں اس لئے چنا کہ ہم اس کے دین کا جھنڈا بلند کریں اور اسے ہر ملک میں گاڑ دیں۔لیکن ایک حقیر سی دولت کیلئے ہم اس کے کام کو نظر انداز کر رہے ہیں۔آخر پاکستان کتنا بڑا ملک ہے۔پاکستان کی حکومت چھوٹی سی حکومت ہے اور پھر اس میں جو حصہ تمہارا ہے وہ کتنا ہے۔اس میں تمہارا حصہ تو بہت ہی کم ہے۔اس معمولی سی دولت کو خدا تعالے کے انتخاب پر مقدم کر لینا کتنے افسوس کی بات ہے خدا تعالیٰ کا کام بہر حال ہوتا چلا جائے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ تم سے برکت چھین لی جائے گی ہے ۱۲۰ اخار (اکتوبر) کے خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعود نے پہلے تو اس خیال کا رد کیا کہ یہ خدا لالی کا کام ہے اوہ خود کرے گا اس کے بعد آیت قرآنی وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ به روزنامه الفضل ۳ اخار ۱۳۵۳ مش / ۱۹۵۳ متر