تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 349 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 349

۳۳۲ إلى الخير (آل عمران : ۱۰۵) کی روشنی میں واضح کیا کہ دینی جماعتیں وقف کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتیں۔چنانچہ حضور نے صحابہ النبی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :- بغیر وقف کے دین کا کام کرنا مشکل ہے جس جماعت میں وقف کا سلسلہ نہ ہو وہ اپنا کام کبھی مستقل طور پر جاری نہیں رکھ سکتی ہم نے تو وقف کی ایک شکل بنا دی ہے ورنہ زندگی وقف کرنے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی موجود تھے کیا تم سمجھتے ہو کہ صحابہ نے وَلتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلى الخَيْرِ وَيَا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ پر عمل نہیں کیا ؟ - حضرت ابو ہریہ نہ کو دیکھ لو انہوں نے آخری زمانہ میں اسلام قبول کیا یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے صرف اڑھائی سال پہلے مسلمان ہوئے۔مسلمان ہونے کے بعد حضرت ابو ہریہ نے غور کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب آخری عمر میں ہیں اور میں بہت دیر کے بعد اسلام میں داخل ہوا ہوں اس لئے اگر میں کچھ سیکھنا چاہتا ہوں تو اس کا طریق یہی ہے کہ میں اپنے آپ کو اس کام کے لئے وقف کر دوں۔چنانچہ وہ مسجد میں ہی رات دن بیٹھے رہتے۔شروع شروع میں اُن کا بھائی گھر سے کھانا بھجوا دیتا تھا۔لیکن جب اُس نے دیکھا کہ یہ تو مستقلی طور پر مسجد میں بیٹھے گئے ہیں تو اُس نے کھانا بھیجوانا بند کر دیا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر کہا کہ یا رسول اللہ میرا بھائی تو مستقل طور پر مسجد میں بیٹھ گیا ہے میں عیال دار شخص ہوں میں نے بچوں کا پیٹ بھی پالتا ہے اسے کب تک خرچ دے سکوں گا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے کہ حضرت ابو ہر میدہ دین کی خدمت کر رہے ہیں اس لئے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بعض دفعہ کسی کو دوسرے کی خاطر یہ ترقی دے دیتا ہے تم ایسا نہ کرو۔ممکن ہے کہ ابو ہریرہ کی خاطر ہی اللہ تعالی تمہیں رزق دے رہا ہو۔لیکن اس نے آپ کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو ہریرہ خود فرماتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے سات سات وقت کے فاقے آجاتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ مسجد سے نہ ہلتے، بلکہ سارا دن وہیں بیٹھے رہتے اور اللہ تعالیٰ اُن کے رزق کا سامان کر دیتا ، اب تم اللہ تعالیٰ کے رزق کے اور معنی کرتے ہو اور صحابہ اس کے اور معنی سمجھتے تھے وہ بے شک دنیا کے کام بھی کرتے تھے الیکن دین کو ہمیشہ مقدم رکھتے تھے یہاں تو گزارہ بھی ملتا ہے چاہے وہ گزارہ کم ہی ہو۔لیکن