تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 346
۳۲۹ کٹھن اور نازک مواقع پر انہوں نے اپنی خطابت، قوت استدلال اور قانونی موشگافیوں کو ایسے جوہر دکھائے ہیں کہ مخالفین بھی عش عش کر اُٹھے۔اور داد دینے پر مجبور ہو گئے۔چودھری صاحب ذاتی اعتبار سے بھی بڑی خوبیوں کے مالک ہیں۔ہمارہے جو ارباب کار اسلامی آئین کا نعرہ بلند کرتے رہتے ہیں وہ ابھی تک وضع اسلامی بھی نہیں اختیار کر سکتے ہیں۔اس کے برعکس چودھری صاحب اس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جسے عام طور پر گراہ بلکہ کافر تک کہا جاتا ہے لیکن یہ گمراہ " اور " کا فر" شخص بغیر شرمائے ہوئے داڑھی رکھتا ہے اور اقوام متحدہ کے جلسوں میں علی الاعلان نماز پڑھتا ہے۔جے کا قیامت خیز ریلوے حادثہ جب رونما ہوا تو یہ شخص اپنے سیلون میں فجر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ہم چودھری صاحب کی کامیابی کے لئے دل سے متمنی ہیں، ہماری دعا ہے کہ وہ اس منصب کی شاندار روایات میں شاندار اضافہ کا موجب ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ ضرور ایسا ہی ہو گا رہے حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب ، اکتوبر ۱۹۳۵ء سے لے کر ۵ فروری ۹۷ تک عالمی عدالت کے جج رہے۔اور 19 کے انتخابات میں آپ اس بین الاقوامی عدالت کے نائب صدر بھی منتخب کئے گئے۔اس عرصہ رکنیت میں مندرجہ ذیل تنازعات عدالت کے سامنے آئے۔ان تنازعات کی سماعت اور فیصلہ میں آپ بھی شامل تھے :- (۱) جنوب مغربی افریقہ مینڈیٹ کے مسائل (تاریخ فیصلہ جات ، جولائی ۱۹۵۵ء یکم جون ۶۹۵۶ (۳) یونیسکو ر UNESCO) کے چار امریکہ افسران کا تنازعہ ( تاریخ فیصلہ ۲۳ اکتوبر (۳) حکومت فرانس اور حکومت ناروے کا تنازعہ۔( تاریخ فیصلہ 4 جولائی ۱۶) (۴) حکومت سوئٹزر لینڈ اور حکومت ریاستہائے متحدہ امریکہ کا تنازعہ تاریخ فیصلہ جات ۲۴ اکتوبر ۱۹۵۶ ۲۱۰ مارچ ۱۹۵۹ء ) (۵) حکومت پرتگال اور حکومت ہند کا تنازعہ ( تاریخ فیصلہ جات ۲۰۶ نومبر ۱۹ و ۱۲ اپریل ) نه بحواله الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۵۳ء من