تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 345
اوار پر لکھا۔ہینگ کی بین الاقوامی عدالت میں جج کے عہدے کے لئے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کا منتخب ہو جانا کوئی ایسی خوش آئند خبر نہیں ہے۔یہ بات کہ پاکستان نے ایک نہایت مرضع عہد ہندوستان کے مقابلہ میں جیت لیا ہے۔ہمارے لئے خوشی منانے کی کافی وجہ قرار نہیں دی جاسکتی۔پاکستان کو ایسے موقعہ پر چوہدری محمد ظفر اشہ خان کے جانے سے جو نقصان ہوا ہے۔بعض مفاد پرست حلقوی کے نزدیک باعث مسرت ہو سکتا ہے۔لیکن پورے ملک اور تمام اسلامی دنیا میں اسے شرت سے محسوس کیا جائے گا۔اس میں شک نہیں کہ آپ کا انتخاب خود بین الاقوامی عدالت کے لئے بہت بڑے فائدے کا موجب ہے۔البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان بھی اپنی شبانہ روز محنت کی بنا پر آرام کے مستحق تھے۔آپ کے بعد یقین کوئی قابل آدمی ہی اس عہدے پر مقر کیا جائے گا مگر ان کا بدل ایک طویل عرصہ تک میسر نہیں آسکے گا اور یقیناً اس وقت تک آپ کے بدل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ کوئی ایسا شخص آگے نہ آئے جو ان کی طرح ہی بیک وقت ایک بڑا سیاستدان ، نامور وکیل عظیم الشان ذہن کا مالک نیز اخلاق کے اعلیٰ اصولوں اور روحانی طاقت اور سیاسی بصیرت کا حامل ہو۔آج جبکہ ہم آپ کی خوش قسمتی کے لئے دعا گو ہیں یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آج کا دن پاکستان کے لئے ایک غمناک دن ہے بارہ پاکستان کے مشہور ادیب، نقاد اور مورخ مولانا ر میں احمد جعفری نے اپنے رسالہ ریاض (نومبر ۱۹۵۴ء) میں لکھا:۔بین الاقوامی عدالت عالیہ کی جھی چودھری ظفر اللہ خان سربنگل راؤ کی جگہ بین الاقوامی عدالت عالیہ کے بیچ منتخب ہو گئے ہیں۔ید انتخاب ہر اعتبار سے مسرت افزاء ہے ہم چودھری صاحب کو اس اعزانہ پر دلی مبارک باد دیتے ہیں۔وہ اس منصب پر پہنچ گئے جو ہر اعتبار سے اُن کے شایان شان ہے۔وزیر خارجہ کی حیثیت سے چودھری صاحب نے پاکستان کی گراں بہا خدمات انجام دی ہیں بیٹھے لے سیجوالله الفضل لاہور ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۴ / ۱۲ را خاء ۳۳۳ آبش ما