تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 321
۳۰۴ اوریات وغیرہ تھیں۔تیج گاؤں : تیج گاؤں میں ہمارے خُدام روٹری کلب کے ساتھ مل کر ریلیف کے کام میں مصروف ہیں چنانچہ وہ کیمپوں میں کام کرنے کے علاوہ باہر دیہاتوں میں انجکشن دیتے اور ضروری ادویات تقسیم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ کھانے پینے کی چیزیں۔پرانے کپڑے برتن اور صابن وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ہے بنگلہ پریس نے جماعت احمدیہ کی اس اسلامی خدمت کا خصوصی ذکر کیا۔چنانچہ روزنامہ بنگلر پریس میں ذکر سنگبا د ڈھا کہ نے اپنی ۲ ار ستمبر ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں جماعت احمدیہ کی امدادی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مشرقی پاکستان کے سیلاب زدہ بھائیوں کی مدد کے سلسلہ میں ہر حدی سے کھانا، کپڑا اور نقدی دینے کی اپیل کی ہے۔آپ نے اپنی طرف سے بھی انجمن احمدیہ مشرقی پاکستان کی معرفت دو ہزار روپی ارسال فرمایا ہے اور مزید دو پیر پہنچنے کا وعدہ فرمایا ہے۔نیز آپ نے مشرقی پاکستان کے لئے ایک سیلاب کمیٹی بنائی ہے۔ڈھاکہ، نارائن کینچ اور تین گاؤں کے علاقہ کے دیہات میں انجمن احمدیہ کے والنٹیر گھوم گھوم کر امدادی کام سرانجام دے ہے ہیں ، چاول، دودھ وال اور دوائیاں ان کے ساتھ ہوتی ہیں جنہیں وہ تقسیم کرتے ہیں اس کے علاوہ انہوں نے سیلاب زدگان میں نقدی بھی تقسیم کی ہے۔نارائن گنج کے علاقہ میں پندرہ والنٹیٹرز تین ریلیف کیمپوں میں کام کر رہے ہیں اور سچل باڑھ اور پچکر میں اچھوت اقوام کے سیلاب زدگان کو انہوں نے کھانے کی اشیاء اور دوائیاں بھی پہنچائی ہیں۔آٹھ نوجوانوں کی ایک پارٹی نرسندی کے علاقہ میں دوائیں اور ٹیکے وغیرہ دینے کے لئے دورہ کر رہی ہے۔پیچ گاؤں کے دانٹیٹرز روٹری کلب والوں کے ساتھ مل کر ریلیف کا کام کر رہے ہیں سے (ترجمہ) اسی طرح بنگلہ کے مشہور اخبارہ ملت" ڈھاکہ نے اپنی ۲۰ ستمبر ۱۹۵۴ ء کی اشاعت میں بنگلہ اور نرسندی ه رساله خالد ربوہ نومبر ۱۹۵۴ء ص ۳۰-۳۱ بحواله الفضل ۱۹ تبرک ۱۳۳۳ مشس / ستمبر ۱۹۵۲ء ص ۸