تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 307
۲۹۰ اور قوم کی تباہی کا موجب خدا تعالیٰ کی سزا ہوتی ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اُس کا ہو جاتا ہے تمہیں یہ دیکھنا چاہیے۔کہ اس قسم کے حملے انفرادی نہیں ہوتے۔ایک عرصہ سے مجھے مخالفین کی طرف سے خطوط آرہے تھے کہ یوں ہوگا۔اگر اس حملہ کا جو مجھ پر کیا گیا۔ایک فرد سے ہی تعلق ہے تو یہ سینکڑوں خطوط کہاں سے آگئے تھے۔اس قسم کی باتیں لوگوں نے دوسروں سے شنی ہوئی تھیں تو تبھی انہوں نے تحریر کیں۔بہرحال کچھ لیڈر اسحلہ کے پیچھے کام کر رہے ہیں عوام کے خلاف تمہارا جوش اور غصہ بیکار ہے۔اس حملہ کے اصل ذمہ دار لیڈر ہیں۔اس فعل کا تعلق کیسی ایک فرد سے نہیں۔یہ ایک قومی فعل ہے۔اور اس کی ذمہ داری قوم پر ہے۔اس کا ایک علاج نو یہ ہے کہ حکومت اس طرف توجہ کرے لیکن حکومت اس طرف توجہ نہیں کرتی۔دوسرا علاج یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس طرف توجہ کرے۔اور خدا تعالیٰ اس طرف ضرور توجہ کرے گا۔بشرطیکہ تم اسکی طرف رجوع کرو۔خدا تعالیٰ سے کی ہوئی دُعائیں اور اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرنا خُدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتے ہیں اور دشمن کو نا کام کرتے ہیں ؟“ لے حضرت مصلح موعود نے اپنی تقریر کے آخر میں ازدواجی حقوق کی ادائیگی اور احمدی نوجوانوں کو آگے لانے کی پر زور تلقین بھی فرمائی اور پھر واپس تشریف لے گئے۔ازاں بعد مک عبد الرحمن صاحب خادم اور چوہدری فضل احد صاحب نائب ناظر تعلیم و تربیت نے بالترتیب سب کمیٹی نظارت ملیار دعوت و تبلیغ اور سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت کی رپورٹ میں پیش فرمائیں اور نمائندگان نے بھی اسی ترتیب سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اور پھر رائے شماری ہوئی۔سے اب چونکہ ایجنڈے پر درج شده تمام تجاویز پر شوگر کی میں خوبرہ ہو چکا تھا۔اس لئے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اطلاع کر دی گئی۔چنانچہ حضور نا سازی طبع کے باوجود اختتامی تقریر اور دعا کے لئے تشریف لائے اور نمائندگان شوری سے ایک پر معارف خطاب فرمایا جس کا خلاصہ شیخ خورشید احمد صاحب رپورٹر الفضل کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے :- ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء ص ۶۳ تھی کہ # ۱۹۵۴ء ص ۷۵ - ۹۲