تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 308 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 308

۲۹۱ فرمایا ، اس وقت ہمارے خلاف بہت سی غلط فہمیاں پھیلا دی گئی ہیں۔بہت سے ایسے الزامات ہم پر لگائے جاتے ہیں جو سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔حالانکہ ہم نے اگر حضرت مرزا صاحب کے لائے ہوئے اصولوں کو بانا ہے تو محض اس لئے کہ ہمیں ان میں اسلام کا فائدہ نظر آتا ہے۔مثلا حیات مسیح علیہ اسلام کے عقیدے کو حضرت مرزا صاحب نے قرآن مجید کی رو سے باطل قرار دیا۔اور یہ ایک بڑی واضح اور صاف بات ہے کہ عقیدہ حیات مسیح اسلام کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا اور عیسائیت کو تقویت دینے کا موجب ہے۔اسی طرح قرآن مجید میں نسخ آیات کے عقیدہ کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تردید لڑائی اور ایک معمو کی عقل کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے۔کہ اس عقیدہ سے قرآن مجیدہ کی شرعی حیثیت کو سخت دھکا لگتا ہے۔اور نسخ کے اصول کو مان کر قرآن مجید کا کوئی حصہ بھی قابل اعتماد نہیں رہتا۔اسی طرح اگر ہم نے حضرت مرزا صاحب کے کہنے پر مان لیا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح پہلے بولتا تھا اسی طرح اب بھی اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور یہ کہ جہاد کا پیغہوم ہرگز نہیں ہے کہ تلوار کے زور سے دوسروں کو مٹانے اور اسلام کو پھیلانے کی کوشش کی جائے کیونکہ اس طرح خود مسلمانوں پر بھی دشمنان اسلام کو ظلم کرنے کا راستہ کھلتا ہے تو تباد آخر اس عقیدہ سے اسلام کی منک ہوتی ہے باعزت قائم ہوتی ہے۔لپس ہمارے خلاف سراسر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تمہارا فرض ہے کہ ان الزامات کا ازالہ کر د۔بے شک ہم اس وقت ملکی فضا کے پیش نظر پاکستان کے مسلمانوں میں تبلیغ نہیں کرتے لیکن اگر کوئی اعتراض کرتا ہے اور الزام لگا تا ہے تو اس کا جواب دینے سے دنیا کا کوئی معقول آدمی ہمیں روک نہیں سکتا۔حضور نے فرمایا اس وقت تم مظلوم ہو۔اور دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ مظلومیت ہی جینا کرتی ہے پس منظومیت سے مست گجرات کہ اسے ظاہر کر د انسان کی لا الہ تعالی نے نیک بنائی ہے اگر تم ان منگولیت کو لوگوں پہظاہر کرو گے تو خو ظلم کرنے والوں کے بھائی بند ان کو ملامت کرنے لگ جائیں گے بین ظلم ہونے دو۔اگر تمہارے پاس اس ظلم کا ازالہ کرنے کی طاقت نہیں تو نہ سہی۔اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا لیکن شرط یہ ہے کہ تم الہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کر لو۔جو اعتراض کرے اس کا جواب دے کر اس کی غلط فہمی کو دور کرد - مرکز کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ رکھو۔اپنی اصلاح کرو ، غر یہوں اور کیوں کی مد که در خدمت خلق میں حصہ اور اور آنا نمایاں حصہ لو کہ دنیا اپنے لئے تمہیں ایک مفید اور نافع الناس وجود تسلیم کرے۔اور ساتھ ہی ساتھ دن زن پر زور دو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو دور فرمائے