تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 300 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 300

۲۸۳ یہاں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ذات کی حفاظت کا سوال نہیں بلکہ اللہ تعالے کے اس پیغام کی حفاظت کا سوال پیش ہے جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا گیا اسب کمیٹی نے جب حضور کی خدمت میں خراج کے اندازہ کی رپورٹ نہیں کی تو حضور نے نہ چاہا کہ اس قدیر مالی بوجھ بات پر ڈالا جائے لیکن کیا اس سے جماعت کا فرض کم ہو جاتا ہے ؟۔۔۔۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے اگر کسی کے دل میں محبت ہے ، اخلاص ہے ، وہ اسلام کی خدمت کرنا چاہتا ہے یا وہ بتانا چاہتا ہے کہ اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے محبت ہے۔بلکہ اسے اپنی ذات اور آئندہ نسل سے محبت ہے تو وہ یہ تو برداشت کرلے گا کہ خدا تعالیٰ کے موعود اور اس کی بارات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خلیفہ کے جسم کی حفاظت میں لاپروائی کی جائے اگر حضور اس رقم کو نا پسند بھی فرما دیں تب بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے جذبات کا اظہار کریں اور اپنی جانوں ، مالوں اور عرب توں کو پیش کریں یہ سلے چوہدری صاحب کے بعد میاں غلام محمد صاحب اختر نمائندہ لجنہ نے تقریر فرمائی کہ :۔جب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پر حملہ ہوا تولوگوں نے دیکھ لیا کہ جماعت کو آپ سے کسی قدر والہانہ محبت ہے۔جماعت کا ہر فرد یہ چاہتا تھا کہ کاش یہ چاتو اس کی گردن پر پھرتا۔ہم روحانی طور پر رہی حضور کے زیرا احسان نہیں بلکہ ہم میں سے اکثر دنیا دی طور پر بھی حضور کے زہیر احسان ہیں۔حضور کے ان احسانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ ان حالات میں اپنا سب کچھ پیش کر دیں میں تو کہوں گا اس کے لئے پچاس ہزار روپیہ کی رقم کا مطالبہ کچھ بھی نہیں لاکھوں روپیہ کی بھی ضرورت ہو تو ہم مہیا کریں گے۔جماعت نے حفاظت مرکزہ کی خاطر جتنا روپیہ دیا تھا اس سے کم از کم دگنا رو پیر حضور کی حفاظت کے لئے پیش کرنا چاہیئے۔میری تجویزہ یہ ہے کہ یہ پچاس ہزار روپے ابھی جمع کئے جائیں۔اس رقم کا بلہ حصہ یعنی مبلغ پانچ صدر و پیسہ میں اپنی طرف سے پیش کرتا ہوں" سے نمائندگان جماعت جماعت نے اس تحریک کا نہایت پُر جوش خیر مقدم کیا اور فوراً اپنی اور اپنی جماعتوں کی طرف سے نقد با وعدوں کی صورت میں اپنا چندہ لکھوانا شروع کر دیا۔یہ ایک نہایت ایمان افروز منظر تھا جب کہ تمام رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء ص ۲۸-۲۱ کے رپورٹ " ص ۲۹