تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 301
۲۸۴ احباب فاسقيمُوا الخَيْرَات کے ارشاد ربانی کے مطابق ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس دینی تحریک میں حصہ لے رہے تھے۔چنانچہ مختصر وقت میں نہ صرف یہ کہ چندہ کی مطلوبہ رقم پوری ہو گئی ملکہ نقد اور وعدوں کو ملا کر ساٹھ ہزار سے بھی تجاوز کرگئی مشاورت کے اگلے دن پچھتر ہزار روپے کی رقم جمع ہوچکی تھی جوحضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے داخل خزانہ کر دی گئی۔لے لے در اصل نمائندگان شوری کی درخواست یہ تھی کہ حضور بغرض علاج امریکہ تشریعیت لے جائیں لیکن حضور نے فرمایا کہ میں صحت کی خرابی کی وجہ سے امریکہ جاتو نہیں سکتا۔لیکن اگر حالات اس قسم کے پیدا ہوگئے کہ مجھے امریکہ جانا پڑا تو میں کسی کے خراج پر جانے کو تیار نہیں ہوں تم اپنے آدمیوں کو ہی خرچ دے دو تو کافی ہے۔نیز فرمایا : تم اپنے عملہ کے لئے رو پیرو سے دو اور اسے علیحدہ رکھو جب ضرورت پیش آئی میں لے لوں گا۔اب میری ایسی حالت نہیں کہ میں لمبا سفر کر سکوں۔امریکہ بحری رستہ سے جاؤں تو دو ماہ جانے میں لگیں گے اور دو ماہ آنے میں لگیں گے اور تین ماہ تک وہاں قیام کرنا ہو گا ہاں ہوائی جہاز پر سفر کیا جائے تو وقت کم لگے گا لیکن ہوائی جہاز پر سفر کرنے کے میں قابل نہیں“ سے سے رپورٹ مشاورت ۱۹۵۴ / ۳۳۳ امتش ۶۵۰-۹۱ الفضل ۲۳ شہادت ۱۳۳۳ مش / ۲۳ اپریل ۱۹۵۴مه ص ۳ یہ فنڈ جمع ہو چکا تو سیدنا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بعض امراء جماعت نے ملاقات کی درخواست کی جو حضور نے منظور نہیں فرمائی جس کی وجہ حضورہ کے الفاظ میں یہ تھی کہ :۔ر چونکہ شوری میں سے بعض امراء کا علیحدہ طور پر ملنا خلاف قاعدہ تھا اس لئے میں نے اس ملاقات کو پسند نہ کیا۔ملاقات ایک وقت میں خلاف قاعدہ ہوتی ہے اور دوسرے وقت میں باقاعدہ ہو جاتی ہے جب مجلس شور کی میٹھی ہو تو سارے افراد شور کی کا حصہ ہوتے ہیں اس لئے اس میں سے بعض افراد علیحدہ طور پر ملاقات کرنا چاہیں وہ امراء ہوں یا عام نمی خلاف قائد ہوتا ہے۔لیکن اگر مجلس شور کی نہ ہوتو پھر امیر اور غریب کا کوئی سوال نہیں ہر شخص کو ملاقات کا حق ہوتا ہے اور وہ ملاقات کرتا ہے۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ رست) سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء ص ۶۶ - ۶۷