تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 295
فلیٹ میں تھا۔حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب نے محترمہ بیگم شفیع کو مام حالات سے آگاہ گیا کہ کوئی پرہیں اخبار الفضل کو چھاپنے کو تیار نہیں ہے۔آپ کے پریس کے علاوہ ہماری نظر میں کوئی پریس نہیں ہے جو الفضل کو چھاپ سکے بیگم شفیع نے پہلا توقف ایمانی جرات سے جواب دیا کہ "احدثیت کے لئے میرا پریس کیا میری جان بھی حاضر ہے۔میں ضرور ہر قیمت پر الفضل کو چھاپوں گی۔اور اس خدمت کو عین سعادت گھوں گی چنانچہ الفضل ۳۰ ما راح ۱۹۵۴ء سے ۱۵ را پریل ۱۹۵۴ء تک دستکاری پولیس میں چھپتا رہا۔اور ہوتا یہ کہ بگم شفیع کے صاحبزادے مبشرات احمد صاحب جو پولیس کے منیجر تھے۔اپنی نگرانی میں رات بھراخبار ھیوا تے اور بیگم شیح اس عرصہ میں الفضل کے خیریت سے چھپنے کے لئے نوافل پڑھتیں اور دعائیں کرتیں۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے محض احمد یت کی برکت سے بیگم شیفت کے پریس اور ان کے نیچوں کی حفاظت فرمائی کچھ عرصه بعد محترمہ بیگم شفیع حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دعا کے لئے حاضر ہوئیں تو حضور نے بڑے اچھے الفاظ کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے اخبار الفضل "دستکاری پریس کے بعد پہلے انصاف پریس میں پھر پاکستان ٹائمز پر نہیں میں طبع ہوتا رہا۔بعد ازاں جلسہ سالانہ امہ کے ایام میں لاہور سے ربوہ منتقل کر دیا گیا۔اور اسر دسمبر ۹۵ اور اس دسمبر ۱۹۵۳ / ۳۱ فتح ۱۳۳۳ امیش سے ضیاء الاسلام پریس ربوہ میں چھپنے لگا۔اس طرح سلسلہ احمدیہ کا یہ قومی ترجمان قریباً سات برس کے بعد دوبارہ مرکز احمدیت سے نکلنا شروع ہوا جس پرا جاب جماعت نے بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعودوا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تو اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کے نام خصوصی پیغامات دیئے حضرت مصلح موعود کے پیغام کا متن یہ تھا :- " اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہیے۔آج ربوہ سے اخبار شائع ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا ربوہ سے نکلنا مبارک کرے اور جب تک یہاں سے نکلنا مقدر ہے۔اس کو اپنے صیے فرائض ادا کرنے کی توفیق دے۔اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے۔اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہیے اور اپنے اخبار کے شه با خود از مکتوب سید مبشرات احمد تاهانی امریکی ( ابن حضرت علامہ سید ابو ابرات نفتق دیالوگ) خود از احتان سیدابرات