تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 288 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 288

پڑھنے والا ہے۔وہ جانتا ہے کہ قرآن شریف میں جو صلواۃ الوسطیٰ کا لفظ آتا ہے، اس کے متعلق مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ اس سے یا عصر کی نمازہ مراد ہے یا صبح کی۔گویا صبح اور عصر کو ایک نام میں شریک قرار دیتے ہیں۔پس وہ ساری مشاہتیں جو حضرت عمر کے حملہ کے ساتھ تھیں۔وہ ساری کی ساری اللہ تعالی نے اس جگہ ملادیں۔اور پھر فضل عمرہ کہ کر یہ بھی بتا دیا۔کہ ہم اس کیساتھ حضرت عمران سے بڑھ کر معاملہ کریں گے۔یعنی حضرت عمرف اس حملہ کے نتیجہ میں شہید ہو گئے تھے لیکن یہ پیدا ہونیوالا لڑکا اس حملہ کے باوجود بچ جائیگا۔اور زندہ رہے گا۔اب دیکھو تو مہارے اور تمہارے اختیار کی بات نہیں تھی تم یہ نہیں کر سکتے تھے کہ کسی شخص کو کہو کہ توجاکر حل کرے تاکہ عمرہ کے ساتھ مشابہت پوری ہو جائے کہ یہ کام صرف دشمن کے ہاتھ سے ہو سکتا تھا۔چنانچہ جو واقعات ہوئے انکو دیکھ کر سمجھ ہی نہیں آتا۔کہ ہمارے آدمیوں کو اس وقت ہو کیا گیا تھا۔مثلا وہ آتا ہے تو ہمارے آدمی اس کو پناہ بھی دیتے ہیں۔اس کو بٹھاتے بھی ہیں اس کی خاطر بھی کرتے ہیں اور کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ تم تحقیق تو کریں یہ ہے کون۔قادیان میں یہ قاعدہ تھا کہ اجنبی آدمی کو نماز کے وقت پہلی دو صفوں میں نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔اور جماعت کے مختلف محلوں کے دوست ہر روز آ کے پہرہ دیتے تھے۔یہاں آکر ان کو بڑا اطمینان ہو گیا۔کہ اب کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں اور پھروہ شخص اپنے افراد کے مطابق آگے پہلی صف میں بیٹھا اور کسی نے نہیں پوچھا کہ میاں تم اجنبی آدمی ہو۔تم پہلی سطر میں کیوں بیٹھے ہو۔بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ مجھ سے عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ نے اس لڑکے کو دیکھا تھا۔میں نے کہا میں نے تو نہیں دیکھا تھا۔بات یہ ہے کہ خُدا تعالیٰ کا منشاء تھا کہ وہ نظروں پر پردہ ڈال دے۔ورنہ عموما انسان کی نظر اٹھ جاتی ہے اور وہ دیکھ لیتا ہے۔مگر میں نے یہی کہا کہ میں نے تو دیکھا نہیں۔یہ مانتا ہے اور دوسرے لوگ کہتے ہیں۔ورنہ ہمیں نے اسکو نہیں دیکھا۔تو یہ ساری چیزیں ایسی تھیں جو ہائے اختیار کی ہیں تھیں کیسی یک کند بر کیساتھ تعلق رکھتی تھیں اوریا پھر خدائی تدبیر تھیں۔ہر حال ان ساری تدبیڑوں کے نتیج من ال تعالے نےحضرت عرض سے میری مشابہت اسوقت ثابت کردی، پھر حضر بلے حوالے:۔طبری جلد ۳ ص ۲۶۴-۲۶۶ الفتوحات الاسلامیہ جلد ۲ ص ۴۹۰ ( تاليف السيد احمد بن ذہنی دحلان مفتی نگر ، مطبوعه مصر ار الفاروق " ص ۲۸۲-۲۸۳ موقفہ علامہ شبلی نعمانی