تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 287
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا تھا۔دیکھو ہمارے ہاں فارسی کی ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ سے خدا شری به انگیزد که خیر یا در آن باشد یعنی خدا تعالی بعض دفعہ کوئی شر پیدا کرتا ہے لیکن اس میں ہمارے لئے خیر مقصود ہوتی ہے۔اب دیکھو یہ واقعہ گزرا تو ظاہر میں اس وقت ہم بھی گھرائے۔بیمار تو تکلیف پاتا ہی ہے اس کو آخر کھ پہنچتا ہے۔باقی جماعت کو بھی ایک صدمہ پہنچا لیکن یہ کتنا بڑا نشان ہے کہ جس وقت میں خلیفہ ہوا اور لوگوں نے حضرت صاحب کے الہام ٹولے تو ان میں سے ایک الہام" فضل عمر بھی انہوں نے پیشیں کرنا شرع کیا کہ دیکھو یہ دوسرے خلیفہ ہوئے ہیں اور ان کے لئے الہام ہے۔فضل عمر پیغامیوں نے اس پر خوب ہنسی اڑائی کہ لوجی یہ فضل عمر بن گئے ہیں۔اب یہ جو تمہارا خلیفہ بننے کا سوال تھا۔یہ تو تمہارے ہاتھ کا ایک فعل تھا۔بے شک قرآن یہی کہتا ہے کہ میں خلیفہ بناتا ہوں۔مگر بنواتا تو آدمیوں کے ہاتھ سے ہے اور جو چیز آدمیوں کے ہاتھ سے بنوائی جاتی ہے۔وہ کوئی دلیل لوگوں کے سامنے نہیں ہوتی تیم یہ کہنے کہ دیکھو حضرت صاحب نے کہا تھا۔فضل عمر اور یہ دوسرے خلیفہ بن گئے توبڑی کھینچ تان کے بعد دلیلیں نکالنی پڑتیں کہ اب تک زندہ رہنے کی کونسی صورت تھی اور کون اس پر یقین رکھ سکتا تھا یہ ذرا پیچیدہ باتیں ہیں۔دشمن کا سیدھا جواب یہ تھا کہ تم نے ان کو دوسرا خلیفہ بنا دیا۔اب لگے ہو الہام چسپاں کرنے تم نے آپ خلیفہ بنایا ہے لیکن یہ چیز خُدا تعالیٰ نے ایسی پیدا کی جو تمہارے ہاتھوں سے نہیں ہوئی تمہارے مخالف کے ہاتھوں سے ہوئی۔راہ جس دن مجھ پر حملہ کیا گیا۔اسی دن حضرت محمرض پر حملہ کیا گیا تھا یعنی بدھ کے دن۔(۲ جس طرح ایک غیر عقیدہ شخص نے حضرت عمرہ پر حملہ کیا تھا۔اسی طرح ایک غیر فقد شخص نے مجھ پر حملہ کیا۔رس جس طرح مسجد میں حضرت عمر یہ حملہ کیا گیا تھا۔اسی طرح مسجد میں مجھ پتہ حملہ کیا گیا ہے جس طرح نماز کے وقت میں حضرت عمر پر حملہ کیا گیا تھا۔اسی طرح نماز کے وقت میں مجھ پر حملہ کیا گیا۔(۵) جس طرح پیچھے سے آکر دشمن نے حضرت عمر یہ حملہ کیا تھا۔اسی طرح پیچھے سے اگر مجھ پر حملہ کیا گیا۔فرق صرف اتنا ہے کہ ان پر صبح کے وقت حملہ ہوا اور مجھ پر عصر کے وقت حملہ ہوا۔لیکن جو قرآن شریف کی تفسیریں ن البولولو غلام