تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 279
۲۶۲ کرتا ہے۔اور لوگوں کو تشدد کی تلقین نہیں کرتا۔آپ اسے لکھنے، بولنے ، چلنے پھرنے کی مکمل آزادی دیں۔بلکہ اس کی اس آزادی کی بھی حفاظت کریں لیکن محض اختلات عقائد کی بنا پر تشدد اور قتل کی سادش پر اتر آنا اور کیسی کے Cold Blooded murder کی کوشش کرنا جمہوریت، انسانیت اور آزادی پر ایک بدترین حملہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اگر اس قسم کی حرکتوں کوکچلی کہ نہ رکھ دیاگیا۔تو پاکستان میں کسی بھی شخص کی جان محفوظ نہیں ہے۔بڑے سے بڑے حکمران سیاسی تاند ہی لیڈر کاروباری آدمی کو ایک بند دل کرانے کا مٹھ موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔برا کے آنگ سان وزیراعظم ور اس کی کابینہ مرحوم بیات علی خان اور سر گاندھی وغیرہ کی مثالیں ہاسے سامنے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے۔کہ موجودہ واقعہ کی مکمل تحقیقات کر کے ان اشخاص کو جن کا اس سے براه را است یا بالواسطہ تعلق ہو، کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔اور ملک میں رواداری جمہور تبت اور انسانی آزادی کا تحفظ کیا جائے کہ لے بھارت اور روز نامہ ملاپ رنئی دہلی نے مار مارچ سالہ کے ایشوع میں زیر عنوان مرزا صاحب پر جملہ لکھا کہ:۔الف پاکستان میں ایک بار پھر بہیجان بیا ہے۔دس مارچ کی شام کو ضلع جھنگ کے ایک گاؤں ربوہ میں جو پاکستان کے اندرا حمدیوں کا ہیڈ کوارٹر ہے مرزا بشیر الدین محمود احمد نمازاداکرنے کے بعد سجد سے باہر آ رہے تھے۔کہ کسی ایماندار مسلمان نے ان پر چھرے سے حملہ کر دیا۔اپنی قسمت سے وہ پکچے گئے۔جملہ آور کی کہ پاسے نہیں " ب عملی طور پر قادیانی اتنے ہی اچھے مسلمان ہیں جتنے کہ اور لوگ۔یورپ اور ایشیا کے اندر زمانہ بدید میں اسلام کی تبلیغ کے لئے بیچارے قادیانیوں نے جو کچھ کیا وہ شاید سلمانوں کا اور کوئی طبقہ کبھی کر نہیں سکا۔برلن لنڈن اور واشنگٹن میں ہر جگہ آپ کو قادیانی مسجدیں ملیں گی۔شکاگو میں ہیں یہ دیکھ کر حیران کہ گیا۔کہ وہاں کئی ہزار مسلمان رہتے ہیں۔نسل کے لحاظ سے وہ سب نیگرو ہیں۔قادیانیوں نے جب دیکھا کہ امریکہ کے نسلی امتیاز سے وہ تنگ ہیں تو انہیں مسلمان و جانیکی ترغیب دی۔چنانچہ اب وہ با قاعده شمان نہیں لیتے له بحواله الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۵۳ / ۳۰ ر امان ۱۳۳۳ بیش ص ۱-۸ سے سمجحواله الفرقان ماہ فروری مارچ انه ص ۸ - ج A-1۔