تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 278 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 278

پاکستانیوں سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ عقائد میں اختلاف کو شخصی دشمنی کا محرک بنانے سے گریز کریں۔اور اسلام کے اس اہل نظریہ کو پیش نظر رکھیں کہ تم اپنے دین پر ہو اور ہم اپنے دین پر لا اکراہ في الدين وغيره۔تازہ ترین اطلاع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے۔کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد خطرہ کے دور سے گزر چکے ہیں اور پولیس بہت سرگرمی کے ساتھ مصروف تفتیش ہے۔ہماری خواہش ہے کہ پاکستان میں تمام مذہبی اختلافات کو مباحثوں و مناظروں اور تحقیق سے طے کرنے کی بجائے نفرت اور تشدد کے ہتھیاروں کو استعمال نہ کیا جائے۔اس کا نتیجہ مفید ہونے کی بجائے انتہائی مضر ہو سکتا ہے یہ سے ہفتہ وار اخبار آواز حق (منظفر آباد) نے اور مارچ ۹۵ نہ کی اشاعت میں زیر عنوان آزاد کشمی قابل صد مذمت" لکھا : یہ خبر بہایت افسوس کیسا تھ سنی گئی کہ کسی بدر کر دار شخص نے احمد یہ جماعت کے امام مرزا بشیر الدین محموداحمد پر قاتلانہ حملہ کیا۔شکر ہے کہ مرزا صاحب بچے گئے ہیں۔اور حملہ آور کوبی موقعہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ حملہ یقینا بزدلانہ حرکت ہے۔جس کی ہر صائب الرائے انسان قدمت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کون نہیں جانتا کہ مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے عقائد کے ساتھ بہت سے لوگ اتفاق نہیں کرتے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اختلاف رائے کی بنا پر کسی کی جان لی جائے۔اور وہ بھی بزدلوں کی طرح چوری چھپے اور گھات میں رہ کرہ فرانس کے مشہور انقلابی فلاسفر والٹیر کا قول ہے :- "I may disagree with all what you say, but 1 will fight unto death for your right to say so۔" یعنی ایک صحیح جمہوریت پرست اپنے مخالف سے کہتا ہے۔کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں۔اس کے ساتھ میرا کوئی اتفاق نہیں ہے۔لیکن آپ کے اس حق کی کہ آپ میرے خلاف بھی کہتے رہیں حفاظت کرنے کے لئے اپنی جان بھی دے دوں گا۔جمہوریت اور رواداری اسی کا نام ہے۔کہ آپ کسی شخص کے خیالات کے ساتھ اتفاق نہ بھی کرتے ہوں تو بھی آپ اس کو اظہار خیال کا موقع دیں۔جب تک وہ پرامن طور پر اپنے خیالات کا اظہار سه بحوالہ بدر قادیان - ۲۱ را پریل ۱۹۵۴ ه ص ۲۰