تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 14
۱۳ ہوں اور خوشخبری سنانے آیا ہوں یا شیخ صاحب نے کہا وہ کیا ؟ کہنے لگے کہ آپ کے سو امیلی ترجمہ قرآن کریم کی ایک کتاب خرید کر میں نے ایک عیسائی افریقین کو پڑھنے کے لئے دی تھی اس کا خط آیا ہے کہ میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا ہوں لیے اس ترجمہ کی نسبت مشرقی افریقہ کے چند ممتاز علماء اور اہل قلم کی آراء درج ذیل کی جاتی ہیں :۔۱- شيخ الغزالی آف ممباسه (کینیا ) :- انہوں نے سواحیلی ترجمہ پڑھنے کے بعد جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں اس ترجمہ کی تعریف کی۔کچھ عرصہ بعد انہیں نیروبی آنے کا موقع ملا تو انہوں نے یہاں بھی سو ا خیلی ترجمہ کو سراہتے ہوئے بتایا کہ یہ بالکل صحیح اور درست ہے۔۲ - جناب ایونی صالح آت زنجبار به انہوں نے لکھا کہ میں نے قرآن پاک کے اس ترجمہ کا اچھی طرح مطالعہ کیا ہے جو آپ نے میرے لئے بھیجا اور یکں یہ ماننے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ اس قرآن پاک کے متن اور تفسیر میں دوسرے قرآن پاک کے مشنوں اور انگریزی تفسیروں (جن میں مولانا محمد علی عبداللہ یوسف علی۔اومارک پکھتال کی تیری ہیں ) میں جو میں نے پڑھی ہیں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا لیکن ایک خاص امر جس کا مجھے پر بہت زیادہ اثر ہے اور جس نے مجھے مجبور کیا کہ تخلوص قلب سے تعریف کروں وہ تفسیر کے بیان کرنے کا طریق ہے۔ایسی تغییر جس میں مختلف دلائل اس طرز پر دیئے گئے ہیں جن کو قبول کئے بغیر چارہ نہیں اور ایسے دلائل جن سے پادری سیل اور پادری جے ڈیل کے اعتراضات کے منہ توڑ جوابات آپ کے ے ڈائری مکرم شیخ مبارک احمد صاحب مقیم نیرو بی ۲۹ اکتوبر ۶۱۹۵۴ کے مدرسہ غزالی مباسہ کے مدرس اور دینی علوم کی اشاعت کا خاص شغف رکھنے والے عالم دین تھے اور دن رات درس و تدریس ان کا وظیفہ تھا : سے آپ بہت عرصہ ٹانگانیکا پولیس فورس میں اعلیٰ عہدہ پر متمکن ہے۔بعد ازاں زنجبار آکر اپنے قبیلہ کے لوگوں میں رہائش اختیار کی اور زنجبار کی کونسل کے ممبر بنے۔کورین قبیلہ کے سرکردہ علم دوست احباب میں سے تھے بہ