تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 13
۱۲ ۱۳۳۲ ہش ( مطابق اارجون ۶۱۹۵۳ ) کو حضور کی خدمت میں حسب ذیل رپورٹ ارسال کی۔حضور کا ارشاد کہ قرآن کریم کے سواحیلی ترجمہ کی اشاعت اصل کام ہے ، اس کے متعلق ضروری پروگرام اور تجاویز اختیار کی جارہی ہیں (۱) اہم ملکی اخبارات میں با قاعده اشتهار (۲) بذریعہ خاص کی پمفلٹ (۳) اخبارات میں ریویو (۴) اور فنکشنز FUNCTIONS (۵) مبلغین کے ذریعہ (۶) بک شاپوں کے ذریعہ (۷) جماعتوں کے ذریعہ کہ وہ اس ترجمہ کو لے کر معتز نہین کے پاس جائیں اور فروخت کریں اور انہیں تحریک کریں کہ وہ افریقینز میں اس کو تقسیم کریں۔خود بھی ارادہ ہے کہ ملک کا دورہ کیا جائے۔جماعت کے دوسرے کاموں کے ساتھ ساتھ خود ہندوستانی و پاکستانی معززین سے مل کہ انہیں تبلیغ بھی کی جائے اور ترجمہ کے متعلق بھی تحریک کی جائے۔ایک خاص نگران کمیٹی مقرر کرنے کی فکر میں ہوں۔پاکستان کے گورنر جنرل اپرائم منسٹر اور فارن منسٹر کو مقامی کمشنر پاکستان کے ذریعہ سواحیلی ترجمہ بطور تحفہ دیا جا رہا ہے امروز فردا ہیں۔۔۔اس موقع پر اخبارات اور فوٹو گرافروں کے نمائندے ہوں گے۔مقامی کمشنر پھر خود ان کتابوں کو کراچی بھیجوا دیں گے۔ہر ایک کی خدمت میں ایک مختصر خط بھی لکھا جائے گا انشاء اللہ۔اِس وقت تک تقریباً ۱۲ ہزار شکنگ کی کتب باہر مختلف ایجنٹوں پیک شاپ اور فرداً فرداً لوگوں کو بھجوائی جاچکی ہیں لیے سواحیلی ترجمہ مشرقی افریقہ کے احمدیہ مشرقی افریقہ کے مختلف علماء اور اہل قلم کے تاثرات میں کا عظیم کا زیادہ ہے جس نے مسلمانان افریقہ کے حوصلے بڑھائے۔ان میں عظیم قرآن کی نئی مشعل روشن کی اور غیر مسلموں میں اشاعت اسلام کے نئے رستے کھول دیئے۔اکتوبر ۱۹۵۴ء کی بات ہے کہ محترم شیخ مبارک احمد صاحب ٹانگا شہر کے تبلیغی دورہ پر تشریف لے گئے تو ایک مسلم انجمن کے سرکردہ رکن با بوفتح محمد صاحب ( ملازم انجنیٹر نگ ڈیپارٹمنٹ ایسٹ افریقین ریلوے ) نے آپ سے ملاقات کی اور کہا مبارک دینے آیا ے رپورٹ مکرم شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ بحضور حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود از نیرویی (۱۱رجون ۶۱۹۵۳ )