تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 264 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 264

جناب او تب سهار مہوری کے مکتوب کا مکمل متن دینے کے بعد بعض دوسرے معززین کے بکثرت خطوط میں سے بطور نمونہ چند خطوط کے بعض فقرات بھی درج ذیل کئے جاتے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کو بھی اندازہ لگ سکے کہ ۱۹۵۴ ء میں انسانی ضمیر اور اسلامی رواداری کی آنکھ کتنی حساس اور بیدار تھی اور اس ظالمانہ اور گھناؤنے فعل کو کس طرح انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا :۔پنجاب کے ایک مشہور قانون دان اور لیڈر نے لاہور سے لکھا:۔مد آج اخبار میں نہیں نے نہایت رنج اور افسوس کے ساتھ آپ پر قاتلانہ حملہ کی جب پڑھی ہسخت صدمہ وا۔۔۔مسلمانان پاکستان کو متفقہ طور پر اس کی مذمت کرنی چاہیے۔کیونکہ ایسے واقعات امن کو برباد اور اسلامی اخلاق و احکام کے سخت منافی ہیں۔۔لاہور سے ایک ماہر معالجات حکیم صاحب نے اپنے خط میں لکھا:۔یہ کینہ حرکت دین میں بھی اور دنیا میں بھی حملہ آور کے لئے نقصان اور ذلت کا باعث ہوگی خدا آپ کا حامی و ناصر ہو اور ہے ؟ ۳۔اوکاڑہ کے ایک معز یہ تاجر نے لکھا:۔عقیدہ کے اعتبار سے میں آپ کی جماعت کا پیرو نہیں ہوں ، اس کے باوجود آپ پر کئے گئے اس حملے سے مجھے بہت دکھ پہنچا ہے۔خداوند کریم کا احسان ہے کہ اس کی قدرت نے آپ کو اپنی امان میں رکھا ہے ۴۔آزاد کشمیر کے ایک مذہبی لیڈر نے لکھا:۔ناہنجار حملہ آور کا یہ عمل نہایت مذموم اور قبیح اور سفاکانہ و ظالمانہ قابل مذمت و نفرت ہے۔محض اختلاف عقائد کی بناء پر یہ بین بزدلی و شقاوت دہمیت ہے۔۔۔۔۔ہر شریف و سلیم العقل کی نظر میں ایسی مجنونانہ حرکات غیر واجب و نا پسندیدہ ہیں۔میں فرقہ جعفریہ اثنا عشریہ کا فرد ہوں۔اور اس مظلوم قوم و مذہب سے تعلق رکھتا اور منسلک رہنا ہی باعث نجات سمجھتا ہوں جو تیرہ سو سال سے ہر زمانہ میں ہرقسم کے مظالم صبر وسکون سے برداشت کرتا رہا ہے یا۔سیالکوٹ سے ایک معزز عہدیدار نے اپنے خط میں لکھا :۔جناب والا کی قیمتی جان پر کمینہ اور بزدلانہ حملہ کی ہر مجھ پر بجلی کی طرح گرمی اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی عمر عطا فرمائے تاکہ آپ انسانیت کی رہبری کرسکیں۔