تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 263
۲۴۶ خلاف احتجاج کیا۔احتجاج کرنے والوں میں نامور ادبا ، قانون دان، ممتاز اطبا استجار سیاسی اور مذہبی رہنما ، ماہرین تعلیم غرضیکہ ہر طبقہ کے اصحاب شامل تھے مثلاً کراچی کے نامور شاعر جناب ادیب سہارنپوری نے چودھری عبد اللہ خان صاحب امیر جاعت احمدیہ کراچی کے نام لکھا۔گرامی جناب قبلہ چو دھری صاحب - السلام علیکم حضرت صاحب پر قاتلانہ حملہ کی اطلاع سے یہاں شخص کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔میں چونکہ مشاعروں کی کثرت کی وجہ سے کئی دن تک ذہنی اور جسمانی طور پہ لاپتہ تھا ، اس لئے یہ غمناک اطلاع مجھے کافی دیر سے ملی۔بھائی جان اور گھر کے تمام لوگ رنجیدہ ہیں اور دھاگو ہیں کہ الہ تعالی حضرت صاحب کو جلد صحت یاب فرمائے آمین سمجھ میں نہیں آتا کہ جو شخص کسی بلند مقصد کے لئے خود کو وقف کر چکا ہو، اور جس کا مرنا جینا اپنے لئے نہیں بلکہ پوری قوم یا معاشرہ کے لئے ہو، اس کے متعلق کون بدبخت یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ اس کی جان بیکر کوئی کارنامہ انجام دے رہا ہے یا اپنے لئے مسرت کی گنجائش نکال رہا ہے ؟مگر کیا کیجئے کہ مسلمان قوم کی خصوصیت بھی اس کی دوسری خصوصیات کی طرح اپنی مثال آپ ہے۔لعنت ہے اُس بدبخت پر اور بھٹکا ر کور بین پر جو روشنی پر تلوار سے حملہ کر کے خوش ہو۔لوگ اسے دیوانہ تو کہ سکتے ہیں لیکن اس کے لئے دوسرا کلمہ خیر ممکن نہیں۔حضرت صاحب نے عین اس حادثے کے بعد جو بیان دیا ہے وہ حضرت صاحب کی عالی ظرفی بہادرانہ شان اور جری روح رکھنے والے انسان کے بالکل شایان شان ہے۔اس بیان میں اپنی تکلیف یا قاتل کی برائی کی طرف کوئی اشارہ نہیں، بلکہ رضائے الہی پر اپنی ہر چیز قربان کردینے کی جھلک ہے۔میرے جذبات اگر آپ حضرت صاحب تک پہنچا سکیں تو ممنون ہوں گا۔چودھری اسد اللہ خان صاحب اور چودھری بشیر احمد صاحب کے حادثہ والی اطلاع بھی کافی رنجیدہ تھی خدا کرے یہ حضرات بھی جلد صحت یاب ہوں ، آمین حضرت صاحب کی بیگم صاحبہ اور دیگر متعلقین کی خدمت میں خاص طور پر طائر صاحب کی خدمت میں ہمارے سب کے جذبات اور صحت کی دعائیں پہنچا دیئے۔فقط آپ کا ادیب سہارنپوری کراچی ۱۴۴ سے تار پاک ۱۹۵۳ ء کی درمیانی شب کو چودھری اسد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب ربوہ آرہے تھےکہ مینوٹ کے قریب کار کے حادثے میں زخمی ہوگئے۔یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔سے صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب