تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 265 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 265

۲۴۸ - راولپنڈی سے ایک مشہور ایڈوکیٹ نے لکھا:۔گو میں خود احمدی نہیں ہوں لیکن میں اس امر کا قائل ہوں کہ حضرت اقدس مرزا صاحب نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔اور ایک ایسی جماعت پیدا کی ہے جو اسلام کے اصولوں پر چلنے کی کوشش اپنے خیال کے مطابق کر رہی ہے آج کو ہستان اخبار میں آپ پر حملہ کا پڑھ کر بڑا تعلق ہوا اس ناپاک حملہ کی مذمت رجس قدر کی جائے کم ہے ؟“ ے۔جہلم سے ایک ڈاکٹر صاحب نے لکھا۔بھی بد بخت نے یہ مکروہ فعل کیا ہے۔خدائے قہار وجبار اس سے انتقام لیگا اور ضرور لیگا شکر ہے پر وردگار کا کہ زخم مہلک نہیں ہے۔خدائے غفور الرحیم کو بھی آپ سے دین اسلام کا کام لینا منظور ہے، ہیں آپ کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا اور نہ ہی میں احمدی ہوں یہ ، مگر جب میں نے یہ جانکاہ خبر پڑھی آنکھوں میں آنسو آگئے شکر ہے للہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے آپ کو بچا لیا " کراچی سے ایک معزز بزرگ نے (جو ایک ملک کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اب پاکستان کی رعایا میں لکھا۔دیروز در روزنامه جنگ" خوانده دلم را خیلی تکلیف رسید۔که کدام شقی القلب باعث ہلاکت جان عزیز میخواست شدن مگر ناکام گشت۔خدا در حفظ و امن خود نگه دارد و چنیں ایسے را بردارش براند۔امید دارم که بزرگوارم از خیریت خود مطلع خواهند نما شد تاکه باعث تسلی گردد۔پروردگار مردان کار را در حفظ و امان خود نگاه دارد ضلع سیالکوٹ سے پاکستان کے ایک مشہور ماہر تعلیم نے لکھا۔ہ افسوس ہے کہ ملک میں مذہبی رواداری بہت کم ہے۔اور بے خر نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈا کے اثر کے نیچے آجاتے ہیں۔پنجاب کے ایک مشہور مصنف نے اپنے ایک خط میں لکھا:۔یہ پڑھ کر کہ جناب صدر جماعت پر کسی بے دین اور گمراہ شخص نے حملہ کر کے ان کو زخمی کیا نہایت رنج و قلی توار یہ یقین کامل ہے کہ ایسے مصائب پر صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے جماعت کا اپنی تبلیغ دین کی کوششوں کو جاری رکھنا ہر حالت میں جماعت کی ترقی و کامیابی پر منتج ہوگا ہے کراچی سے پاکستان کی ایک بہت بڑی تجارتی کمپنی سے تعلق رکھنے والے ایک معزز دوست نے لکھا۔