تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 262 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 262

۲۴۵ و اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کے رحم سے احمد ثیت کو ہرممکن ترقی اور پھیلاؤ عطا ہوگا۔ا۔اے میرے آقا ! تیرے ذکر سے میرے دل میں نورانی شعاع داخل ہوئی اور میرے چہرے پر رونق آگئی۔ایک کینے اور بد بخت نے تجھ پر تیر چلا یا جو در حقیقت ہماری روح و جگر میں پیوست ہو گیا۔۔اس مجرم کو معلوم نہیں کہ اس نے کتنا بڑا جرم کیا اور وہ بھی نہیں جانتا کہ اس جرم کی سزا جہنم ہے۔۱۳۔اس واقعہ سے دنیا کے لاکھوں انسانوں کو صدمہ ہوا۔اسے آقا اس واقعہ سے آپ متعجب نہ ہوں کہ ہلائیں آتی ہی ۱۵ رمتی ہیں۔اسے پاکیزہ خصائل اہم تیرے بارے میں کمالات ہمجتم سوال بن رہے ہیں۔اور مسرت و شفا خود دعا گو ہیں۔اسے امام ! جماعت احدیہ آپ پہ قربان۔اسے امیر را میری جان آپ پر شار ۱۔اسے امام ! اللہ تعالیٰ آپ کو ان زخموں سے جلد شفا بخشے جنہوں نے میرے سینہ میں ستنقل زخم ڈال دیتے ہیں اور مجھے بیمار کر دیا ہے۔۱۷۔جب ہمارا آقا خیر و عافیت سے ہو تو ہمیں ساری دنیا کی بادشاہت ملنے کے برابر خوشی ہوتی ہے۔۱۔اسے شکیل عمر تیرے زخم سے حضرت عمرہ کی یاد تازہ ہوگئی جب ایک کیلنے نے آپ پر وار کیا اور امید حیات جاتی رہی۔۱۹۔اور ایسا ہی حضرت عثمان کی یاد تازہ ہو گئی جو بے گناہ تھے اور گھر کے اندر شہید کئے گئے۔نیز حضرت علی القی الاتقیاء بھی یاد آگئے۔۲۰۔سے جلیل القدر امام ! ان بزرگوں کے مصائب ہمارے لئے اسوہ نہیں اور اس سلسلہ میں شہید کربلا حضرت امام حسین کو کون بھلا سکتا ہے۔۔اسے آقا انستجھ سے مخفی نہ رہے کہ ہمارے لئے گھرانے کا کوئی موقع نہیں کیونکہ دنیا کے حوادث کی کوئی انتہا نہیں۔۲۲۔اسے سرمایہ حیات ! اور اے ذخیرہ آخرت تجد پہ ہر گھڑی خداتعالی کا اسلام۔تجھ پر سر گھڑی بنی نوع انسان کا مخلصانه سلام - حضرت مصلح موعود پر بزدلانہ حملہ نے نہ صرف احمدیوں کے دلوں مسلمان معززین کے قابل قدر جذبات کو ہی انتہائی طور پر مجردن کیا بلکہ ہر ملک ہر فرقہ اور ہر مذہب کے شریف النفس مسلمانوں کو اس سے سخت صدمہ ہوا۔بہت سے محرز غیر احمدی احباب ربوہ پہنچے اور انہوں نے اپنے ولی جذبات کا اظہار کیا۔کئی دوستوں نے اختلاف عقیدہ کے باوجود تاروں اور خطوط کے ذریعہ اس سفاکانہ اقدام کے