تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 261
۲۴۴ ا ذكرت بِجُرْحِكَ الْفَارُوقَ لَمَّا رماة الوفد وانْقَطَعَ الرجاء وَعُثمَانُ النَّقِيُّ قَتِيلُ بَيْتٍ كَذَاكَ عَلِيُّ الْقَى الانْقِيَاء ٢٠ تا سَى فِيهِمُ يَا ابْنَ الْمَعَانِي ولا تنسَ شَهِيدَ الكَرْبَلاء وَلَا تَجْرَعَ آيَا كَنْزِى وَذُخْرِى فما تحَوَادِثِ الدُّنْيَا انْتِهَاء عَلَيْكَ سَلَام رَبِّي كُلَّ حِينٍ سَلامُ مَا بِهِ قَطُّ رِيَاء ا۔اسے امیر المومنین! میری جان آپ پر فدا ہو اور جان سے بڑھ کر کیا فدیہ ہوگا ؟ - ایک شریر، سرکشی اور غیر مہذب شخص نے اپنی حرکت سے آپ کو جو نقصان پہنچایا ہے ، مجھے اس کا علم ہوا۔للہ تعالٰی آپ کو اس زخم سے شفا بخشے جس کی وجہ سے میرے دل میں ایسا درد ہے، جس کا کوئی علاج نہیں۔۔بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ ہمیشہ صحت مندانہ زندگی بسر کریں اور دشمن اپنے ارادوں میں نا کام ہو۔ه تار کے ذریعہ زخم کا شعلہ، جو قائم رہنے والی بجلی کی چمک کی مانند تھا، ہم افراد جماعت تک پہنچا۔- آپ کے روحانی فرزند تیز قدموں کے ساتھ فوراً آپ کے پاس پہنچے اور یہ لوگ جہاد کے عادی ہیں اور دشمن کے آگے سرنگوں ہونا ان کا شیوہ نہیں۔- انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک دشمن کا جھنڈا سرنگوں نہ ہو ان کے جوش و خروش میں کمی نہ ہوگی۔یہ روحانی ہتھیار گراہی کی تاریکیوں کو پاش پاش کر دیں گے اور آخر کار ان سے ایسا روحانی محل تیار ہو گا جس کے ستون مضبوط ہوں گے اور جو ہمیشہ پر نور رہے گا۔که روزنامه الفضل لاہور مورخہ ۲۷ ہجرت ۳۳۳ آتش / ۲۷ مئی ۱۹۵۴ء مست