تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 232 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 232

۲۲۰ تک پکی سڑک نہیں ہے صرف ریل کی پٹڑی گزرتی ہے اس لئے امداد کے لئے اس جگہ تک کوئی موٹر نہیں آسکتی تھی۔اس طرح وہ جگہ جزیرے کی طرح تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ رویا میں ہوائی جہانہ کا دکھایا جانا اور واقعہ ریل میں ہونا اور پھر گاڑی بھی مشرق سے مغرب کو جا رہی تھی اسی طرح دوسری باتوں کا ہونا بتاتا ہے کہ یہ ایک تقدیر مبرم تھی لیکن خدا تعالے نے ہماری دعاؤں کو شنکر اس حادثہ کو بجائے ہوائی جہانہ کے ریل میں بدل دیا۔ہوائی جہاز میں ایسا حادثہ پیش آجائے تو اس سے بچنا مشکل ہوتا ہے شاذ ہی کوئی شخص اس قسم کے حادثے سے بچنا ہے لیکن یہی حادثہ ریل میں پیشیں آجائے تو اس سے کسی انسان کا پنچ جانا ممکن ہے اور پھر وہ ریل مشرق سے مغرب کو جا رہی تھی جب میں نے اخبار میں وہ واقعہ پڑھا تو میں نے محسوس کیا کہ میری وہ خواب پوری ہو گئی ہے۔میں نے میاں بشیر احمد صاح ہے اس کا ذکر کیا جن کو میں یہ خواب اسی وقت بتا چکا تھا جب یہ خواب آئی تھی۔انہوں نے بھی کہا کہ واقعہ میں وہ خواب پوری ہوئی ہے لیکن میں نے اخبار میں یہ واقع پڑھ کر چودھری صاحب کو یہ لکھنا پسند نہ کیا کہ میری رویا پوری ہوگئی ہے۔کیونکہ رویا میں انہوں نے پہلے اطلاع دی تھی اس لئے میں نے یہی پسند کیا کہ وہ اطلاع دیں گے تو میں لکھوں گا چنانچہ دوسرے دن چودھری صاحب کی تار آ گئی کہ آپ کھا رویا پوری ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے اس حادثہ سے بچالیا ہے۔یہاں صرف رویا کا سوال نہیں کہ وہ پوری ہوگئی بلکہ یہ ایک تقدیر مبرم تھی جو دکھاؤں سے بدل گئی رویا میں خدا تعالیٰ نے مجھے ہوائی جہانہ دکھا یا لیکن وہ واقعہ اسی جہت ہیں اور اسی شکل میں ریل میں پورا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہونا تقدیر مبرم تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے کہا چلو ان کی بات بھی پوری ہو جائے اور اپنی بات بھی پوری ہو جائے یہی واقعہ ہم ریل میں گرا دیتے ہیں۔اس سے ہماری بات بھی پوری ہو چاہتے گی اور ان کی دُعا بھی قبول ہو جائے گی۔پس یہ واقعہ ہمارے لئے زائد یقین اور ایمان کا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کی وجہ سے اپنی تقدیر مبرم کو بدل دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں بھی ایسا ہی ہو مثلاً نواب صاحبک لڑکا عبدالرحیم بیار ہو گیا۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پتہ لگا کہ وہ اب بچ نہیں سکتا۔اس پر آپ نے خاص طور پہ اس کی صحت کیلئے دعا شروع فرما دی اور اس دعا کے نتیجے میں وہ بچ گیا۔اسی طرح مبارک احمد کے متعلق بھی آتا ہے کہ جب اُس کی نبضیں چھٹ گئیں تو آپ نئے اس له البدر (قادیان) ۲۹ اکتوبه - ۱۸/ نومبر ۱۹۰۳ء ص ۳۲۱