تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 233
۲۲۱ کے لئے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اسے دوبارہ سانس دے دیار پس ریل کار کا یہ حادثہ خدا تعالیٰ کی تقدیر مبرم پر دلالت کرتا ہے۔اس نے ہماری دعاؤں اور صدقہ اور قربانی کی وجہ سے ایک ایسی تقدیر کو بدل دیا جیسں کو عام حالات میں وہ بدلا نہیں کرتا۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ایمان کو بڑھانے اور اُسے تقویت دینے کے کئی سامان عطا فرمائے ہیں اگر ہم ان کے بعد بھی اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتے اور شہستی سے کام لیتے ہیں تو یہ ہماری انتہائی بد قسمتی ہوگی۔دنیا تو ابھی اندھیرے میں ہے اورا سے پتہ نہیں کہ خُدا ہے یا نہیں اسے پتہ نہیں کہ خدا تعالیٰ بولتا ہے یا نہیں۔اسے علم نہیں کہ خدا تعالے سچا ہے یا نہیں لیکن ہمارے لئے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ پہلے موجود تھا نہ صرف یہ کہ وہ پہلے سنتا تھا اور بولتا تھا بلکہ وہ ہمیں یہ دکھا رہا ہے کہ میں اب بھی سنتا ہوں میں آپ بھی بولتا ہوں اور اب بھی اپنے بندوں کی مدد کرتا ہوں کیا حضور نے خطبہ کے آخر میں نصیحت فرمائی کہ :- ہ ہم اگر سو چیں اور غور کریں تو تمہیں بھی ہر جگہ ہی کہنا پڑتا ہے کہ یہ موقع بھی دعا کا ہے۔اگر پہلے منافع سے ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا تو اسی موقع سے ہی فائدہ اُٹھا لیں کیونکہ جہاں دعا نشان دکھاتی ہے وہاں نشان کے محسوس کرنے کا رستہ بھی دعا ہی کھولتی ہے اور ہمارے ایمان کے رستہ ہیں جو روک ہوا اسے بھی دعا ہی دور کرتی ہے پس ہمیں اس مبارک زمانہ سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔خدا تعالے نے کھڑکیاں کھول دی ہیں اور اپنے تقریب کے رستہ کو آسان بنا دیا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان ذرائع سے فائدہ اٹھائیں تاہم جھولیاں بھر کران کھڑکیوں سے گذریں اور تاکہ ہم اس کی رحمت اور فضل سے مالا مال ہو جائیں جس سے دوسری دنیا محروم ہوچکی ہے۔پہلے چودھری محمدظفر اللہ خاں صاحب روزیر خارجہ چوری محمد ظفر اللہ خاں حنا کا فاضلانہ مشکلیه اسناد پاکستان) نے ۲۷ ماه تبلیغ ۳۳۳ امنش (فروری ۱۹۵۴ء) کو تعلیم الاسلام کالج لاہور کے حلبتہ اسناد میں ایک فاضلانہ خطبہ دیا جس میں آپ نے بتایا کہ جو طالب علم ے حقیقة الوحی ص ۳۸۵ طبع اول نشان ۱۸۲ که روزنامه المصلح " کراچی ۱۸ تبلیغ ۳۳۳ اتش / فروری ۱۹۵۴ء ص ۳-۴