تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 231 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 231

۲۱۹ کے دوست بھی ہیں اور دوست کا صدمہ خود انسان کا اپنا صدمہ کہلاتا ہے، چنانچہ میں نے صبح انہیں تار دے دی چونکہ وہ احمدی نہیں ہیں اس لئے میں نے یہ نہ کھا کہ میں نے رویا دیکھی ہے بلکہ صرف یہ لکھا کہ آپ سفر پر جارہے ہیں میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس سفر کے دوران میں آپ کو اپنی حفات میں رکھے لیکن میرا تا ر پہنچنے سے پہلے ملک صاحب سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔وہ تار قائمقام گورنر جنرل کو ملا اور انہوں نے خیال کیا کہ یہ مبارکبادی کی تارہے۔چنانچہ ان کی طرف سے شکریہ کی چٹھی آگئی حالانکہ وہ تار اس رویا کی بنا پہ اصل گورنر جنرل کو دی گئی تھی لیکن وہ علی قائمقام گورنر جنرل کو تیسرے چونکہ چودھری صاحب مغرب میں پہنچ چکے تھے اور پاکستان کی طرف سفر کرتے ہوئے انہوں نے مغرب سے مشرق کو آنا تھا اور پھر اس حادثہ کی خبر بھی انہوں نے خود ہی دی تھی۔اس لئے میں نے خیال کیا کہ شاید اس سے یہ مراد ہو کہ جو خاص کام مراکو وغیرہ کی خدمت کا وہ کر رہے ہیں اس میں انہیں ناکامی ہو۔بہر حال یں نے ایک بکر بطور صدقہ ذبح کر وا دیا اور چودھری صاحب کو بھی خط لکھا کہ وہ خود بھی صدقہ دے دیں چنا نچہ انہوں نے بھی صدقہ دے دیا اور ہم نے دعائیں جاری رکھیں۔میں لاہور گیا تو چو دھری صاحب کی بیوی مجھے ملیں نہیں نے انہیں بھی بتایاکہ میں نے اس قسم کی رویا دیکھی ہے چونکہ چودھری صاحب کی لڑکی بھی اس سفر میں ان کے ہمراہ تھی اس لئے ان کے لئے دوسرا صدمہ تھا۔اس لئے انہوں نے کبھی اس عرصہ میں روزانہ ایک ایک کر کے یا بعض دنوں میں دو دو کر کے 4 بکرے صدقہ دیتے چودھری صاحب خیریت سے کراچی پہنچ گئے۔اور اس قسم کا کوئی حادثہ انہیں پیش نہ آیا کراچی سے پنجاب آئے تو یہ سفر بھی خیریت سے گزر گیا۔لیکن جب کراچی واپس گئے تو رستہ میں اس گاڑی کو جس میں چودھری صاحب سفر کر رہے تھے خطرناک حادثہ پیش آیا اور انڈین ریڈیو پر جب یہ خبر نشر ہوئی تو اس کے متعلق کا لفظ ہی استعمال کیا گیا۔گاڑی پٹڑوں کے ڈبوں سے ٹکرا گئی اور ایسا خطرناک حادثہ پیش آیا کہ ایک احمدی دوست نے مجھے لکھا کہ میں سمجھتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا عذاب آگیا ہے۔ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس میں کوئی اور احمدی بھی سفر کر رہا تھا لیکن اس خط سے معلوم ہوا کہ وہ بھی اس ٹرین میں تھا اور اس نے لکھا کہ ہر وہ شخص جس نے اس نظارہ کو دیکھا ہے وہ کہہ نہیں سکتا کہ یہ حادثہ عذاب اہی نہیں تھا بہر حال دونوں گاڑیاں ٹکراگئیں اور جن ڈبوں کو خدا تعالیٰ نے آگ سے بچا یا انہیں پیچھے لایا گیا جس جگہ پر یہ واقعہ ہوا چودھری صاحب کے خطبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے دس دس میل دور Crashed