تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 227 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 227

۲۱۵ ہے کہ خط میں کئی اور کاغذ ہیں۔جن میں بعض اور باتیں بیان کی گئی ہیں۔مرزا بشیر احمد صاحب کہتے ہیں تعجب ہے چو ہدری صاحب نے اصل بات تو لکھی نہیں۔کچھ اور ہی باتیں لکھی ہیں۔آخر وہ کاغذ بھی مل گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ ہوائی جہاز کو پیش آیا ہے۔تم اس میں سوار ہوا اور وہ تیزی سے نیچے کی طرف چلا آ رہا ہے جب ہوائی جہاز بہت نیچے آجاتا ہے تو کچھ جزیرے سے نظر آتے ہیں اور جہازان میں سے ایک جزیرے میں جاگرتا ہے۔میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ سفر مشرق میں مغرب کی طرف ہے اور کسی شخص غلام محمد نامی کا بھی ذکر آتا ہے۔اس سے مجھے خیال ہوا کہ ممکن ہے گورنر جنرل صاحب کا بھی کوئی تعلق ہو کیونکہ وہ بھی سفر یہ جانے والے ہیں۔میں نے تار دے دیا ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے ان کا سفر خیریت سے گزار دے۔خطاب جاری رکھتے ہوئے مکرم چوہدری صاحب موصوف نے فرمایا کہ حضور کو تفہیم ہوئی تھی کہ سفر مشرق سے مغرب کی طرف ہے لیکن میرا امریکہ سے واپسی کا سفر مغرب سے مشرق کی طرف تھا البته ۲۹ دسمبر کو مجھے تہران سے واپس دمشق جانا تھا اور میرے سفر کا یہی ایک حصہ ایسا تھا جو مشرق سے مغرب کی جانب تھا۔۔اس لئے میں نے چوہدری عبداللہ خان صاحب کو لکھا تھا کہ ایک جانور ۲۸ دسمبر کو بھی ذبح کر دادیں۔اب دیکھو ریل کے اس خوفناک حادثے میں جو کل (یعنی ۲۱ جنوری ۱۹۵۳) کو پیشین آیا ہے وہ سب باتیں پوری ہوگئی ہیں۔جو خواب میں حضورہ پر منکشف کی گئی تھیں۔مجھے کل بھی ہیں کا خیال تھا کہ حضور کے خواب میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ تھا۔لیکن آج صبح جب میں اس حادثے کی تفصیلات اخبار ڈان میں پڑھ رہا تھا تو ایک بات میری نگاہ میں ایسی آئی کہ جس سے فوراً میری توجہ حضور کے خواب کی طرف کھینچی گئی وہ یہ ہے کہ پاکستان میل کے ڈرائیور کا نام جو حیرت انگیز طور پر زندہ بیچ رہا ہے غلام محمد ہے۔حضور نے دیکھا تھا کہ یہ سفر مشرق سے مغرب کی طرف ہے چنانچہ لاہور سے کراچی کی جانب عموماً مشرق سے مغرب ہی کی طرف تھا۔لیکن جہاں حادثہ پیش آیا وہاں سفر میں مشرق سے مغرب ہی کی طرف تھا۔پھر حضور کے خواب میں جزیگر دکھائے۔گئے تھے سو یہ حادثہ جس مقام پر ہوا۔وہ پکی سڑک سے دس گیارہ میل دور تھا کسی سمت سے کوئی