تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 226 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 226

حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان بھی اس ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔آپ کا سیلون اسی گاڑی کے آخر میں تھا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔قریباً تین ماہ پیشتر حضرت مصلح موعود نے چودھری صاحب کے اس حادثہ سے دوچار ہونے اور اس میں محفوظ رہنے کے متعلق ایک رویا دیکھا تھا جس کی اطلاع حضور نے بذریعہ مکتوب چو دھری صاحب موصوف کو بھی بھیجوا دی تھی۔چنانچہ اس حادثہ کے دو روز بعد ۲۳ فروری کو حضرت چودھری صاحب نے احمدیہ ہال کراچی میں جو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اس میں جماعت کے سامنے حضرت مصلح موعود کی رویا اور حادثہ کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ا۔غالباً یہ اکتوبر کے اواخر کی بات ہے کہ مجھے نیو یارک میں جہاں رویا کی تفصیلات میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے گیا ہوا تھا، حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تاریلا جس میں مجھے یہ ہدایت کی گئی تھی کہ میں تارہ کے پہنچتے ہیں صدقہ دے دوں اور پھر جب سفر شروع کروں تو بھی اللہ تعالی کی راہ میں صدقہ ادا کردوں ہیں ہدایت کی میں نے فوراً تعمیل کردی : علاوہ ازیں سفر پر روانہ ہونے سے قبل چو ہدری عبداللہ خان صاحب کو کراچی لکھا کہ وہ 9 دسمبر ۱۹۵۳ء کو ایک جانور میری طرف سے بطور صدقہ ذبح کروا دیں اور اسی طرح ۲۸ دسمبر کو بھی۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔اس سفر میں میری بچی بھی میرے ساتھ تھی جب ہم امریکہ سے واپس کراچی پہنچے تو اس نے اپنی والدہ سے حضرت صاحب کے برقی پیغام کا ذکر گیا۔اس پر اس کی والدہ نے بتایا کہ وہ خود بھی اس عرصہ میں ا۶ جانور بطور صدقہ فریج کرواچکی ہیں۔ابھی میں نیو یارک ہی میں تھا کہ تار کے چند روز بعد مجھے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ایک والانامہ ملا۔جس میں حضور نے اپنا ایک رویا بیان فرمایا تھا اور اس رویا کی بناء پر ہی حضور نے مجھے تار دیا تھا۔رویا کے جو حصے مجھے یاد ہیں۔وہ میں اپنے الفاظ میں بیان کر دیتا ہوں حضور نے لکھا :۔میں نے خواب میں دیکھا کہ تمہاری طرف سے کوئی خط آیا ہے جس میں کسی ایسے حادثے کا ذکر ہے کہ جس کی زدمیں تم خود بھی آگئے ہو۔کہیں سوچتا ہوں کہ انہی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا ہے اور پھر خود ہی یہ خط بھی لکھ رہے ہیں۔وہاں مرزا البشیر احمد صاحب بھی بیٹھے ہیں۔میں ان سے بھی تمہارے خط کا ذکر کرتا ہوں اور خط میں سے وہ حصہ نکالتا ہوں جس میں حادثے کا ذکر ہے۔یوں معلوم ہوتا |