تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 207 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 207

196 تو انہی کے کندھوں پر آتی ہے اور اگر کوئی خوشی کی خبر آتی ہے تو اس سے بھی وہی لذت محسوس کرتے ہیں لیکن ایک چیز ایسی ہے جس کو جماعت کا ہر فرد سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ کہ ہماری جماعت کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے بظاہر اس کی کوئی دنیوی وجہ نہیں پائی جاتی کیونکہ ہماری جماعت کے لوگ دوسروں سے حسن سلوک کرتے ہیں۔ان سے نیک معاملہ کرتے ہیں ان سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں اور ان سے اچھے تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ان کے بہی خواہ ہیں لیکن پھر بھی ان کی مخالفت ہوتی ہے۔آج ہی میں قادیان کی ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا جس میں لکھا تھا کہ ہم ایک باغیچہ میں گئے وہاں کچھ مہاجر بیٹھے آپنی میں باتیں کر رہے تھے اور کچھ مقامی لوگ بھی وہاں بیٹھے تھے۔شروع شروع میں جب پاکستان سے ہندو اور سکھ مہاجر وہاں گئے تو چونکہ وہ بہت چڑے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے سلوک سے تنگ تھے اس لئے وہ پاکستان یا مسلمانوں کی تعریف کسی مسلمان سے سُن نہیں سکتے تھے اور اگر کوئی تعریف کرتا تو اس سے لڑ پڑنے اور کہتے کہ تو بڑا غدار ہے لیکن آہستہ آہستہ قادیان والوں کے مین سلوک کی وجہ سے لوگوں میں تبدیلی پیدا ہوئی چنانچہ اب ان مہاجرین میں سے بھی ایک حصہ ایسا ہے جو کبھی کبھی جماعت کی تعریف کر دیتا ہے ہر حال اس رپورٹ میں ذکر تھا کہ وہاں جو مہاجر بن بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے بعض نے تعریف کی اور کہا کہ احمدی بڑے اچھے ہیں اور یہ اپنے معاملات میں دوسرے مسلمانوں سے مختلف ہیں۔ان کا اتنا کہنا تھا کہ ایک مقامی سکھ جو اپنے دل میں جوش دبائے بیٹھا تھا کھڑا ہو گیا اور اس نے دس بارہ منٹ تک تقریکی اور کہا کہ ان لوگوں کے ہم ایسے اچھے تعلقات تھے کہ جب سے یہ گئے ہیں ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قادیان اور اس کے گردو نواح کی رونی ہی چلی گئی ہے۔ان لوگوں کے پاس طاقت تھی اور یہ اگر چاہتے تو ہمیں تباہ کر سکتے تھے مگر اتنی طاقت کے باوجود ان لوگوں نے ہماری حفاظت کی اور ہمیں کسی قسم کا نقصان پہنچنے نہیں دیا چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ گو بعد میں ہندوستانی حکومت غالب آگئی مگر سوال تو یہ ہے کہ اس وقت کون سمجھتا تھا کہ گورداسپور کا ضلع اُدھر چلا جائے گا اس وقت اگر ہمارے بھی وہی جذبات ہوتے جو مندروں اور سکھوں کے تھے تو دس دس میل کے حلقہ میں ایک ہندو اور سکھ بھی نہ بچپنا مگر ہم نے ان کے مردوں اور عورتوں اور بچوں کی اسی طرح حفاظت کی جس طرح ہم اپنے کردوں اور عورتوں اور بچوکی کی حفاظت کرتے تھے اور نہ ہم نے زبان سے انہیں کوئی لفظ کہا۔نہ ان کی دل شکنی کی اور بندگلی