تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 206 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 206

144 سے غنڈوں کے ہجوم نے گھیر لیا۔اور کہنے لگے کرصرف ایک بار کہہ دو کہ میں حمدی نہیں ہوں ہم تمہیں اپنا سردار بنالیں گے اور تم کواگر کوئی تکلیف ہو تو اس کو دور کر دیں گے۔یہ بد قماش لوگ در اصل انہیں حق سے برگشتہ کر کے شہر بھر میں ایک جلوس نکالنا چاہتے تھے۔اور سواری اور پھولوں کے بار لیکر کھڑے تھے لیکن جب گوہر علی خان صا نے نہایت درجہ استقلال کا نمونہ دکھایا اور ان کی یہ مذبوحی حرکات اُن کے ایمان میں ذرہ برابر تنز لنزل پیدانہ کر سکیں تو یہ لوگ مایوس ہو گئے۔اور نہایت غیظ و غضب اور گالی اور ہنسی ٹھیٹھا کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں مکان سے باہر لے گئے اور دھوپ میں کھڑا کر دیا۔گرمی کی شدت سے جب اُن کو پیاس لگی تو پانی تک دینے سے انکار کردہ ہا گیا اور ان کو دھمکی دی گئی کہ گر تو یہ نہیں کرو گے تو تمہیں زندہ جلا دیا جائے گا۔بعد ازاں خوران کی بیوی پیا ایک طلاق نامہ لکھا اور اُن سے زبر دستی دستخط کے لئے اور پھر انہیں گاؤں سے باہر نکال دیا گیا اور دھمکی دی کہ اگر تم دوبارہ اس گاؤں میں آؤ گے تو تمہاری لاش چیل اور کروں کے حوالے کر دی جائے گی۔گوہر علی خان صاحب نہایت بے سروسامانی کی حالت میں وہاں سے سات میل کے فاصلے پر سر کو کا ہوش میں آئے جہاں دو گھرا حدیوں کے تھے۔وہاں سے سونگڑہ ہوتے ہوئے سدانند پور پہنچے اور ایک مخلص احمدی محمد محسن صاحب کے یہاں پناہ گزین ہو گئے جنہوں نے اس دردناک واقع کی تفصیلات قادیان بھجوائیں۔اور اخبار بدر" قادیان مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۵۳ء کے صفحہ پر شائع ہوئیں۔ملک کے بٹوارہ پر قریباً چھ برس گزر چکے تھے اس قادیان کے ماحول میں ایک خوشگوار تبدیلی دوران میں قادیان اور اس کے ماحول میں غیر مسلم اور مسلم آبادی میں شدید کھچاؤ، تلخی اور منافرت کی جو خلیج حائل تھی وہ اب آہستہ آہستہ کم سے کم تر ہوتی چلی گئی۔اور باہمی تعلقات میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔اس خوشگوار تبدیلی کا ایک ثبوت قادیان سے آمدہ وہ رپورٹ بھی تھی جو حضرت مصلح موعود کی خدمت میں قادیان سے ناصر آباد موصول ہوئی اور حضور نے ، باہ ظہور اگست " ( ۳۳۲ امش) کو ملاحظہ فرمائی اور خطبہ جمعہ کے شروع میں اس کا خاص طور پر ذکر کیا چنانچہ فرمایا۔۱۹۵۳ء عام طور پر ہماری جماعت کے لوگ ان حالات سے واقف نہیں ہوتے جو جماعت کے خلاف ملک کے مختلف جہات اور اطراف میں یا مختلف ملکوں میں پیدا ہوتے ہیں چونکہ ایسی تمام اطلاعات مرکزہ میں آتی ہیں اور وہ اطلاعات نہ ساری شائع کی جاسکتی ہیں اور نہ ہی ان سب کا شائع کرنا مناسب ہوتا ہے۔اس لئے صرف چند لوگ ہی ایسے ہیں جو ان سے واقف ہوتے ہیں اگر مصیبت آتی ہے لے اخبار میں سہو امر لو چھپ گیا ہے ( مکتوب سید شاہد احمد صاحب سونگھڑ وی بنام مؤلف ۲ مارچ ۱۹۸۱ء)