تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 205 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 205

۱۹۵ کیں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ اگر کسی ضرورت کے ماتحت صدر انجین احمدیہ کراچی میری طرف سے ہدایت جاری کرنا ضروری سمجھے تو میری زندگی میں اسے یہ اختیار بھی ہوگا۔۔۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت اپنی دینی اصلاح اور چندوں کی ادائیگی اور وقف زندگی اور انسانی اسلام اورتعلیم قرآن اور غرباء پروری اور ہمدردی اور خدمت خلق اوراچھے اخلاق اور نیک فو نے پیش کرنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتی رہے گی۔اور ان باتوں کو ایسی مضبوطی سے پکڑے گی کہ کوئی روک اسے ان مقاصد سے ہٹا نہ سکے۔اسے عزیز و باگھبرانے کی بات نہیں۔خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے۔میں نے یہ ہدایات صرف کام کی سہولت کے لئے دی ہیں کیونکہ خدا کا کام ہر انسان کے وجود سے مقدم ہے وأخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين خاک مرزا محمود احمد ۱۲ - ۴ - ۵۳ ایک بھارتی احمدی پر افسوسناک تشدد می ش کا وقعہ ہے کہ منی پور ضلع کلک اڈریس) میں ۴۳ گاؤں کا ایک بڑا جلسہ ہوا جس میں سائت غیر احمدی معلماء مدعو تھے جلسہ کے اختتام پر محلہ والے ایک بھیاسٹھ سالہ مخلص احمدی گو بر علی خان صاحب کو ( جو حضر خلیفہ الشیخ الاول ض کے عہد خلافت میں داخل احمدیت ہوئے تھے ) ایک غیر احمدی مولوی محمد اسماعیل صاحب کے پاس پکڑ کے لئے گئے اور احمدیت سے تائب ہونے کو کہا۔گو ہر علی خان صاحب نے کہا کہ میں اُمتی شخص ہوں اور یہ عالم ہیں نہیں ان سے سوال و جواب نہیں کر سکتا ہاں میں احمدی عالم کو منگا سکتا ہوں بشرطیکہ آپ لوگ ان کے آنے جانے کا خراج اپنے ذمہ لیں۔یہ شرط مولوی محمد اسماعیل صاحب نے قبول کرائی۔اور دوماہ کے عرصہ میں مباحثہ ہونے کے لئے ایک تحریر اُن سے لکھائی۔اگلے دن ایک شادی کی مجلس میں انہیں دوبارہ زبر دستی بلوایا گیا اور اُن پر انتہائی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ احد ثیت سے منحرف ہو جائیں جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں چاروں طرف سله المصلح ، ار اپریل ۱۹۵۳ء ۷ ماه شهادت ۳۳۲ایش ص