تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 186
144 بیلی رام جموں چلا گیا۔ہمارے وکیل چودھری نصر اللہ خاں صاحب کو جج صاحب نے بتا بھی دیا کہ اپیل تمہار سے مخالف ہے۔ادھر مخالف فریق ہمارے پیچھے لگ گیا کہ آؤ صلح کر لیں چنانچہ وہ جائیداد ہم نے نصف نصفی تقسیم کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے ہر ایک نقصان سے بچا لیا۔ایک وفعہ ہم قادیان گرمی کے موسم میں گئے میری بیوی اس وقت میرے ساتھ تھی ملاقات کے موقع پر میری بیوی سے حضرت مسیح موعود نے دریافت فرمایا کہ لڑکی تم کچھ پڑھی ہوئی ہو۔اس نے جواب دیا کہ ہاں حضور یکں قرآن شریف با ترجمہ پڑھی ہوئی ہوں اور تفسیر محمدی بھی پڑھی ہوئی ) ہوں۔چنانچہ آپ نے اس سے قرآن شریف ترجمہ کے ساتھ سنا۔آپ نے فرمایا " ترجمہ وہی ہے جو تم نے پڑھا ہوا ہے لیکن سمجھ میں فرق پڑ گیا ہے میری منشاء ہے کہ چند یوم یہاں ٹھہرو اور مجھ سے پڑھ کر جاؤ تو جا کر عورتوں کو تبلیغ کرو کیونکہ عورتیں عورتوں کو اچھی طرح تبلیغ کر سکتی ہیں ؟ اگلے روز صبح کے وقت حضور نے میری بیوی کو سورۃ فاتحہ کا سبق دینا شروع کیا۔اس وقت میری بیوی کی گود میں ایک چھوٹی لڑکی تھی میمونہ بیگم اس لڑکی کا نام تھا۔ایک آنکھ اس کی خراب تھی اور پانی بہتا رہتا تھا ہمیں خطرہ تھا کہ آنکھ ضائع ہو جائے گی۔سبق دیتے وقت لڑکی نے رونا شروع کر دیا اور دونوں آنکھیں خراب ہوگئیں حضور کو سبق دینا دشوار ہو گیا۔لیکن خلیفہ اول کے شفا خانہ میں بیٹھا ہوا تھا حضور نے ایک خادم کے ساتھ لڑکی کو شفا خانہ بھیج دیا اور حضرت مولوی صاحب کو لڑ کی خادمہ نے کہا کہ مولوی صاحب حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ اس لڑکی کی آنکھوں میں کچھ ڈال دیں اچھی ہو جائے گی ، چنانچہ مولوی صاحب نے فوراً اس کی آنکھوں میں ایک شیشی سے پانی سا ڈال دیا لڑکی کی آنکھوں کو فوراً آرام آگیا اور ایک آنکھ کا نقص خاص بھی بجاتا رہا۔جب تک وہ لڑکی زندہ رہی اُس وقت تک وہ معجزہ کے طور پر ہم لوگوں کو دکھایا کرتے تھے۔اے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے ضمیمہ رسالہ تریاق القلوب کے صفحہ ۲۸ پر آپ کا نام نشان متعلق لیکھرام کے مصدقین کی فہرست میں بالفاظ ذیل نمبر ۹۵ پر لکھا ہے :- ے رجسٹر روایات صحابه ر حه تا حه به