تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 187 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 187

144 غلام حسن صاحب ہی۔اسے کلاس مشن کالج لاہور (خلاصہ عبارت تصدیق ) مرزا صاحب کی پیشنگوئی ہر طرح سے پوری ہوئی ہے یا آپ ۱۹۲۴ ء میں ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے اور حضرت صاحبزادہ مرته الشریف احمد صاحب کی کو ٹھٹی کے قریب ایک وسیع عمارت حسن منزل تعمیر کروائی جہاں آپ ۱۹۴۷ء کے پر آشوب زمانہ تک رہائش پذیر رہے اور پھر اپنا سارا اثاثہ چھوڑ کر اپنی بہوؤں کے ساتھ پاکستان میں پناہ گزین ہوئے۔جناب میجر چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ تحریر فرماتے ہیں :۔۱۹۷ ء میں میں حفاظت مرکز قادیان کا انچارج تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر فوج کی ملازمت چھوڑ کر آیا تھا۔حفاظت مرکز کی تمام کارروائیوں کا مرکز و محور اپنا گھڑ ا حسن منزل ہی تھا۔والد صاحب کو بڑھتے ہوئے فسادات کی صورت کا صحیح علم تھا جب یکی گرفتار ہو کو جیل بند کر دیا گیا تو حضور خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چاہا کہ میرے گھر کے تمام افراد فوراً پاکستان بھجوادئے جائیں تا کہ حکومت اور پولیس کی سختی سے بچ جائیں۔والد صاحب نے قادیان چھوڑنے سے انکار کر دیا اور بار بار کہتے کہ لیں تو یہاں مرنے کے لئے آیا تھا اور یہیں مروں گا۔آپ کو ہجرت پر آمادہ کرنے کے لئے کوئی دلیل کارگر نہ ہوئی۔آخر یہی کہہ کر آپ کو رضا مند کیا گیا کہ حضور کہتے ہیں کہ چلے بھاؤ۔پاکستان آن کر ہم نے دیکھا کہ آپ کو قطعاً جائیداد کھو جانے کا صدمہ نہ تھا صرف اور صرف یہی رنج تھا کہ قادیان چھوٹ گیا۔جہاں مرنے گیا تھا وہاں مرنا بھی نصیب نہ ہوا۔اس یقین سے پر تھے کہ ہم ضرور قا دیان جائیں گے ؟ آپ پانچ بھائی تھے حضرت نواب محمد دین صاحب ، حضرت چوہدری محمد حسین صاحب ، حضرت چوہدری غلام حسن صاحب ، حضرت چوہدری غلام علی صاحب ، حضرت چوہدری غلام سرور صاحب۔حضرت چوہدری غلام حسن صاحب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح شب بیدار ، متدین اور مختر بزرگ تھے۔نے آپ سیفٹی آرڈی نیس کے تحت ۲۳ اگست ۱۹۴۷ء کو قادیان سے گرفتار کئے گئے تھے اور ا ر اپریل ۱۹۴۸ء کو دوسرے احمدی اسیران مشرقی پنجاب کے ساتھ آپ کی رہائی سنٹرل جیل لاہور سے عمل میں آئی۔( تاریخ احمدیت جلد ۱ ص جلد ۱۲ ص ۱۳)