تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 6
اور مسلمان مہاجرین مکہ کو جس طرح بھی ہو واپس مکہ لائیں چنانچہ یہ وفد مکہ سے گیا اور درباریوں خصوصاً پادریوں کے ذریعہ سے بادشاہ سے ملا جو اس زمانہ میں سنگس کہلاتا تھا۔جیسے معرب لوگ نجاشی کہتے تھے۔یہ اس بادشاہ کا نام نہیں تھا بلکہ یہ اس زمانہ کے حبشی بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا۔چنانچہ بادشاہ کے سامنے انہوں نے شکایت کی کہ ان کے ملک کے کچھ باغی بھاگ کہ حبشہ آگئے ہیں اور انہیں مکہ والوں نے اس لئے بھیجا ہے کہ ان باغیوں کو مکہ کی حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔بادشاہ نے ان لوگوں کی باتیں سن کر مسلمانوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ وہ کس طرح آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اُن پر ان کی قوم علم کر رہی تھی اور چونکہ افریقن بادشاہ کا انصاف اور اس کا عدل مشہور تھا وہ اس کے ملک میں پناہ لینے کے لئے آگئے۔اس پر بادشاہ نے مکہ کے وفد کو جواب دیا کہ چونکہ ان کے خلاف کوئی سیاسی جرم ثابت نہیں صرف مذہبی اختلاف ثابت ہے اِس لئے وہ اُن کو واپس کرنے کے لئے تیار نہیں۔مگہ کا وفد جب دربار سے ناکام لوٹا تو اس نے درباریوں اور پادریوں کو بھی تھے تقسیم کئے اور انہیں اکسایا کہ یہ سلمان لوگ حضرت مسیح کی بھی ہنگ کرتے ہیں اس لئے مسیحیوں کو بھی مکہ والوں کے ساتھ مل کر اُن پر سختی کرنی چاہیے۔چنانچہ دوسرے دن پھر درباریوں نے بادشاہ پر نہ ور دیا کہ یہ لوگ توشیح کی بھی ہنگ کرتے ہیں چنانچہ بادشاہ نے مسلمانوں کو پھر بلوایا اور اُن سے پوچھا کہ آپ لوگ مسیح کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں مسلمانوں نے سورت مریم کی ابتدائی آیات پڑھے کہ اُن کو سنائیں جن میں مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کا ذکر ہے اور پھر کہا کہ ہم مسیح کو نبی اللہ مانتے ہیں۔ہاں انہیں خدا کا بیٹا نہیں مانتے۔اس پر پادریوں نے شور مچا دیا کہ دیکھو انہوں نے مسیح کی بہتک کی ہے مگر افریقین بادشاہ منصف اور عادل تھا اس نے سمجھ لیا کہ یہ الزام ان پر غلط لگایا جارہا ہے یہ لوگ شیخ کا ادب کرتے ہیں مگر اس کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے۔چنانچہ اس نے بڑے جوش سے ایک تنکا فرش پر سے اٹھایا اور کہا کہ خدا کی قسم یکس بھی مسیح کو وہی کچھ مانتا ہوں جو یہ کہتے ہیں اور یکی اس درجہ سے جو انہوں نے شیخ کا بیان کیا اُسے ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں سمجھتا۔اس پر پادریوں نے بادشاہ کے خلاف بھی آوازے کسنے شروع کئے کہ تو بھی مرتد ہو گیا ہے لیکن بنجاشی نے کہا کہ میں تمہارے شور و شخب کی وجہ سے مرعوب نہیں ہو سکتا۔جب میرا باپ مرا تو یکی چھوٹا بچہ تھا اور میری جگہ میرا چچا قائم مقام بادشاہ مقرر کیا گیا تھا اور تم