تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 7 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 7

لوگوں نے اس کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ مجھ کو تخت سے محروم کر دو۔جب مجھے یہ بات معلوم ہوئی تو با وجود اس کے کہ میں چھوٹا تھا میں نے اپنا حق لینا چاہا اور نوجوان میرے ساتھ مل گئے اور میرے چچا نے ڈر کر دستبرداری دے دی اور تخت میرے حوالے کر دیا تو میری بادشاہت تمہاری وجہ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے با وجود تمہاری مخالف کوششوں کے مجھے دی ہے۔کیا میں اب تم سے ڈر کر خدا کو چھوڑ دوں گا اور ظلم اور تعری کروں گا۔نہ تم نے یہ بادشاہت مجھے دی ہے نہ یکن تمہاری مدد کا مختارج ہوں لیکن کسی صورت میں ظلم نہیں کر سکتا۔یہ لوگ آزادی سے میرے ملک میں رہیں گے اور کوئی اُن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پس اسے اہل افریقہ جن کے مشرقی علاقہ کی علمی زبان سواحیلی ہے میں یہ ترجمہ آپ کو پیش کرنے میں ایک لذت اور سرور محسوس کرتا ہوں کیونکہ اس کتاب کے ابتدائی ایام میں اس کتاب کے ماننے والوں کو آپ کے بیر اعظم نے پناہ دی تھی اور ظلم و تعدی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور انصاف اور عدل قائم کرنے کا بیڑا اٹھا لیا تھا۔آج قرآن پاک کی تعلیم اسی طرح مظلوم ہے جس طرح کہ کیسی زمانہ میں قرآن کریم کے ماننے والے مظلوم ہوا کرتے تھے۔آج اس قرآن کریم کو دنیا میں لانے والا نبی فوت ہو چکا ہے لیکن اس کا روحانی وجود آج اس سے بھی زیادہ مظلوم ہے جتنا کہ آج سے قریباً چودہ سو سال پہلے وہ اپنی دنیا وی زندگی میں مظلوم تھا۔اس پر جھوٹے الزام لگائے جاتے ہیں۔اس کی لائی ہوئی تعلیم کو بگاڑ کہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔اس کے ماننے والوں کو حقیر اور ذلیل سمجھا جاتا ہے لیکن خدا گواہ ہے کہ واقعہ یہ نہیں۔خدا کی نظروں میں سب سے زیادہ معزز وجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جن پر یہ قرآن نازل ہوا تھا اور سب سے زیادہ پیچی تعلیم وہ ہے جو اس کتاب یعنی قرآن مجید میں موجود ہے جیسا کہ آپ خود دیکھ لیں گئے۔دنیا صرف اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ پر اس کی تردید کر رہی ہے اور اس کے ماننے والوی کو ذلیل کر رہی ہے۔لیکن اے اہل افریقہ ! آج آپ کا بھی یہی حال ہے۔آپ کو بھی غیر ملکوں میں تو الگ رہا اپنے ملک میں بھی ذلیل ہی سمجھا جا رہا ہے۔پس وہ تعلیم جس نے چودہ سو سال پہلے ایک وحشی اور غیر تعلیم یافتہ قوم کو دنیا کی ترقیات کی چوٹی پر پہنچا دیا تھا لیکن جو آج مظلوم ہے اور گھر سے بے گھر کر دی گئی ہے لیکں اُسے آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں جبکہ آپ لوگوں کی حالت بھی اسی قسم کی ہے۔اور آپ سے