تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 5
سواحیلی ترجمہ قرآن کے ساتھ حضرت مصلح موعود سیدنا حضرت مصلح موعود کا ایمان افروز دیباچہ کا ایک ایمان افروز دریا یہ بھی شائع ہوا جو حضور۔۔نے محترم شیخ صاحب کی درخواست پر عطافرمایا۔یہ تاریخی دیباچہ حضور نے مولانامحمد یعقوب صاحب طاہر انچارج شعبه زود نویسی کو لکھوایا تھا جو انہوں نے ۱۸ جنوری ۱۹۵۳ء کو صاف کر کے حضور کی خدمت میں پیش کیا حضور نے اپنے قلم مبارک سے کئی مقامات پر صحیح کی اور آخر میں دستخط ثبت فرمائے بیہ ۱۹ جنوری ۱۹۵۳ء کو مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب اور پرائیویٹ سیکرٹری نے اسے نیرو بی پہنچانے کے لئے وکیل التبشیر صاحب تحریک جدید کو بھجوا دیا۔جناب شیخ صاحب نے اس اُردو دیباچہ کا عام فہم سواحیلی میں ترجمہ کیا۔دیباچہ کا متقن حسب ذیل تھا :۔اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُها وَنَصَلَى عَلَى رَسُولِهِ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر سواحیلی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کے مضمون کے متعلق مختصر نوٹ شائع کئے جا رہے ہیں۔افریقہ کو اسلامی تاریخ میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے خصوصاً شمال مشرقی افریقہ کو اسلام کے ابتدائی ایام میں جب مکہ والوں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے مظالم کئے اور مکہ میں مسلمانوں کی رہائش نا ممکن ہوگئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے سلمانوں کو حبشہ کی طرف جانے کی ہدایت فرمائی۔حبشہ یعنی ایسے پینیا وہ ملک ہے جو کہ کینیا کالونی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔چنانچہ مسلمان اس ملک میں پہنچے اور وہاں کے بادشاہ کے قانون کے ماتحت انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائی گئی اور امن کا سانس انہوں نے لینا شروع کیا تو مکہ والوں سے یہ بات برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے اپنی قوم کے دو لیڈروں کو بادشاہ اور اس کے درباریوں کے لئے بہت سے تحائف دے کر بھیجوایا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ بادشاہ سے درخواست کریں کہ و ہ جا بحرین کو مکہ کی حکومت کے حوالہ کر دے تاکہ وہ ان سے اپنے خیالات اور عقائد کے مطابق سلوک کریں اور اگر بادشاہ نہ مانے تو پھر درباریوں کو تحفے دے کر اُن سے بادشاہ پر زور ڈلوائیں ه اصل مسوده اب دفتر شعبہ تار مریخ احمدیت میں محفوظ ہے،