تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 184
14 ہم نے معاف کر دیا۔پھر میں نے عرض کی کہ للہ ان کے لئے درد دل سے دعا فرما دیں۔فرمایا بہت اچھا۔بیعت کے وقت حضرت اقدس چار پائی پر تشریف رکھتے تھے۔میں نیچے بیٹھ گیا مگر حضرت اقدس نے میرا ہاتھ کھینچے کہ اوپر بٹھالیا اور بیعت لینے کے بعد لمبی دعا فرمائی۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اول یا حکیم محمد دین حنا اور یکن نیچے اُتر سے تو رستے میں خواجہ کمال الدین حضرت خلیفہ اول کو ملے حضرت خلیفہ اول نے خواجہ صاحب کو کہا اس لڑکے کو جانتے ہو ؟ اس نے آج وہ کام کیا ہے کہ مجھے بھی اس پر رشک آرہا ہے اور یکن چاہتا ہوں کہ کاش میری اولاد بھی میرے بعد میرے لئے اسی طرح نیک نامی کا باعث ہو۔خواجہ صاحب نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ اس نے والدصاحب کو حضور سے معاف کروایا ہے اور ان کے لئے دعا کروائی ہے " اہ جناب شیخ صاحب ۱۹۴۱ء میں ملازمت سے ریٹائر ہو کر قادیان آگئے جہاں کچھ عرصہ تک افسر حفاظت بھی رہے۔۱۹۴۷ء میں ہجرت کر کے اپنے وطن گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہو گئے۔وفات سے قریباً دو ماہ قبل حضرت مصلح موعود کے ایماء پر ربوہ تشریف لے آئے۔جناب شیخ صاحب اپنی ملازمت کے دوران احمدی دوستوں سے نہایت رواداری اور شفقت سے پیش آتے رہے اور مہمان نوازی کا عمدہ نمونہ پیش کرتے رہے۔نہایت نیک دل اور راستباز انسان تھے۔شدھی کی تحریک کے انسداد میں آگرہ کے علاقہ میں نہایت مفید کام کیا۔تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین میں سے تھے۔انتظامی قابیت بھی بہت رکھتے تھے۔نہایت زیرک اور معاملہ فہم انسان تھے۔مدت تک سٹار ہوزری قادیان کے ڈائریکٹر رہ ہے۔خاندان حضرت مہدی معہود سے بہت محبت رکھتے تھے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بہت خیال تھا۔غرضیکہ دینی اور دنیا وی دونوں اعتبار سے آپ کی زندگی حیات طیبہ کا رنگ رکھتی تھی اور ایک کامیاب زندگی تھی یہ اولاد : محترمہ فضل بیگم صاحبہ ولادت ۱۹۰۳ء ( زوجه مکرم قریشی ضیاء الدین احمد صاحب مرحوم ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور) محترم بریگیڈیر غلام احمد صاحب ایم آرسی پی ) ولادت ۱۹۰۵ء - وفات ستمبر ۲۶۱۹۷۶ ۱۳۰ ه رجسٹر روایات صحابہ ۱۳۰ ص ۱۲ ۱۲۲ که روزنامه المصلح" کراچی ۲۰ ستمبر ۶۱۹۵۳