تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 180
نگاہ میں نہ رہی آپ نے اپنی اس پیاری بچی کا تمام جہیز نصرت گرلز سکول قادیان کو دے دیا۔آپ سخت محنت کے عادی تھے اپنی زندگی کے آخری سال میں بھی جبکہ آپ کی عمر نو سے سال کے لگ بھگ تھی پیدل چل کر اپنے کھیتوں کا چکر لگا آتے، با وجود بڑھاپے کے درختوں کو پانی دیتے ، ملائی کرتے اور باغ کی نگہداشت میں لگے رہتے۔حضرت خلیفة المسیح الاول ان سے بہت گہرے تعلقات تھے اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام بالخصوص حضرت مصلح موعود کے ساتھ غایت درجہ محبت و عقیدت تھی لیے حضرت مصلح موعود نے ۲۵ ستمبر ۱۹۵۲ء کو نماز جمعہ کے بعد آپ کا جنازہ پڑھایا اور فرمایا " صحابی تھے مخلص احمدی تھے کے ۵ - چودھری عمر الدین صاحب آف بنگہ ضلع بالند مقر ولادت : اندازه ۱۸۶۳ و بیعت ۱۹۰۳ء ، وفات : ۲۳ جون ۶۱۹۵۳ } چوہدری مثمر الدین صاحب مبلغ اسلام مولوی کرم الہی صاحب ظفر مبلغ سپین کے چچا تھے اور انہیں کے ذریعہ سے آپ کے خاندان کو احمدیت کی لازوال نعمت و برکت نصیب ہوئی۔فرمایا کرتے تھے کہ مجھے احمدیت حضرت مولوی کریم بخش صاحب کے ذریعہ قبول کرنے کی توفیق ملی۔آپ کو مشرق وسطی کے سفر کا بھی موقع ملا اور مصر، شام اور ترکی بھی گئے۔فرمایا کرتے تھے ، اسی سفر میں اشارہ ہوا کہ پیشوا ظاہر ہو چکا ہے اس کی بیعت کرو چنا نچہ سفر سے واپسی پر آتے ہی احمدیت نصیب ہوگئی۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۱۹۰۵ ء میں جب دہلی تشریف لے گئے تو آپ بھی امرتسر سے پھگواڑہ سٹیشن تک حضور کے ہمسفر رہے جونہی کوئی سٹیشن آتا آپ نکل کر حضور کے ڈبہ کے سامنے کھڑے ہو جاتے۔له المصلح - الغاء ۱۳۳۲اہش ۴ اکتوبر ۱۹۵۳ء ص ب له المصلح ۱۳ نبوت ۱۳۳۲ ش / ۱۳ نومبر ۶۱۹۵۳ سے بیعت سے قبل اہلحدیث تھے احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ نے اعلان فرما دیا کہ میں نے تحقیق کر کے بیعت کی ہے آپ لوگوں کی عبیسی مرضی ہو۔اکثر اہلحدیث آپ کے خیالات کا ادب کرتے تھے اس لئے اکثر نے اُن کی بیعت کے بعد بیعت کر لی ؟