تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 175
۱۶۵ میرے واقف تھے چھوٹی مسجد میں بیعت کی تھی۔میرے لئے حضرت نے دعا کی۔اُس وقت سے میرا ایمان نہایت مضبوط ہے۔اُس وقت میں نے آپ کو سیح موعود اور امام مہدی مانا تھا۔سنتے تھے کہ حضرت عیسی کی بجائے آپ تشریف لائے ہیں یا لے ا رمئی ۱۹۵۳ کا واقعہ ہے کہ آپ صبح سوا چار بچے اپنے گاؤں حلال پور کی طرف آرہے تھے کہ آپ کا گھوڑا پھلرواں ریلوے سٹیشن سے دو میل دور گاڑی سے بد کا اور بے قابو ہو کر انجن کی لپیٹ میں آگیا۔گھوڑا اچھلا گیا اور آپ لائن سے باہر گر پڑے۔ایک زخم دائیں پنڈلی پر اور دوسرا زخم بائیں کان کے پیچھے آیا گاڑی کھڑی ہو گئی۔ریلو سے گارڈ نے آپ کو بے ہوشی کی حالت میں گاڑی میں رکھ لیا۔گاڑی ابھی تین میل ہی گئی تھی کہ آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ کی نعش ملکوالی ریلوے سٹیشن پر پہنچی۔آپ کی جیب سے کچھ نقدی اور دفتر بہشتی مقبرہ ربوہ کی ایک میٹھی بر آمد ہوئی مشین سے ریلوے پولیس نے احمدی قرار دے کر نعش تجہیز و تکفین وغیرہ کے لئے جماعت احمدیہ بھیرہ کے سپرد کر دی جماعت بھیرہ نے کفن وغیرہ کا انتظام کیا۔جنازہ پڑھا اور دفن کرنے کے لئے قبرستان کی طرف لے جانے ہی والے تھے کہ راجہ بشیر الدین صاحب سکول ماسٹر مڈھ رانجھا نے جو حسن اتفاق سے وہاں گئے ہوئے تھے نعش کی شناخت کرلی اور جماعت کے دوستوں کو حلال پور نعش پہنچانے کے لئے کیا چنانچہ دوستوں نے لاری کا انتظام کیا اور پندرہ سولہ آدمی نعش کو لاری میں رکھ کر 11 میٹی ۲ بجے رات کو حلالہور آئے۔جماعت احمدیہ بھیرہ کے دوستوں نے کمال ہمدردی اور انتشار کا نمونہ دکھایا۔آپ کا جنازہ غائب حضرت مصلح موعود نے ۱۹ جون ۱۹۵۳ کو پڑھایا اور بہشتی مقبرہ ربوہ کے قلعہ صحابہ میں دفن کئے گئے۔آپ کی وفات پر مولوی عبد المجید صاحب منیب (معلم اصلاح و ارشاد) نے لکھا :۔مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ بیعت سے پہلے میں صوم وصلوٰۃ کا تارک تھا لیکن سبعیت کے خط میں ہی حضرت اقدس علیہ السلام سے اوامر کی پابندی کے لئے دعا کی درخواست کی چنانچہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ خدا کا فضل ہے کہ اس کے بعد سفر اور حضر میں۔بیماری اور صحت کی حالت میں ایک نمازہ 1۔9 ے رجسٹر روایات صحابہ جلد ۳ ما "المصلح» ۲۹ اگست ۱۹۵۳ء ص وہ جولائی ۱۹۵۳ ء مث کالم ملا ہے